اسلام آباد میں ایک خاتون کو بچاتے ہوئے شہید ہونے والے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے مبینہ قاتل کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم سعد عباسی کو تھانہ کھنہ کے علاقے سے حراست میں لیا گیا۔
پولیس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق نائنتھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک موٹرسائیکل سوار کو ایک خاتون کا ہاتھ کھینچتے دیکھا۔ ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے وہ واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب اپنی گاڑی روک دی، جس پر خاتون دوسری جانب بھاگ کر ان کے قریب آ گئی۔
پولیس کے مطابق اسی دوران ملزم سعد عباسی نے گروپ کیپٹن عاصم طارق سے بدکلامی شروع کر دی اور بعد ازاں ان پر فائرنگ کر دی۔ شدید زخمی ہونے کے باعث گروپ کیپٹن عاصم طارق شہید ہو گئے۔
خاتون نے پولیس کو بیان دیا کہ ملزم اس کا دفتر میں ساتھی تھا اور اس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی، تاہم بعد میں وہ راستہ تبدیل کرکے اسے کسی اور جگہ لے جانا چاہتا تھا، جس پر دونوں کے درمیان جھگڑا شروع ہو گیا۔ خاتون کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے اسے محفوظ بنایا۔
علی ناصر رضوی نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ یہ کیس پولیس کے لیے انتہائی اہم اور چیلنجنگ تھا۔ انہوں نے کہا کہ صبح 11 بج کر 21 منٹ پر گروپ کیپٹن عاصم کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا اور حاضر سروس فضائیہ افسر کی شہادت ایک تشویشناک واقعہ ہے۔
آئی جی اسلام آباد کے مطابق ملزم اور خاتون دونوں کھنہ کے علاقے میں رہتے تھے اور ایک ہی دفتر میں کام کرتے تھے۔ ملزم خاتون کو پارک لے جانا چاہتا تھا، لیکن خاتون نے انکار کر دیا، جس پر دونوں کے درمیان تکرار ہوئی۔ گروپ کیپٹن عاصم نے خاتون کو مشکل میں دیکھ کر گاڑی روکی اور دونوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق ملزم سعد عباسی موقع سے آگے جانے کے بعد واپس یوٹرن لے کر آیا اور گروپ کیپٹن عاصم طارق پر فائرنگ کرکے فرار ہو گیا۔
آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔ ملزم کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور واقعے کے صرف 9 گھنٹوں کے اندر اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں گے اور ملزم کو قرار واقعی سزا دلائی جائے گی۔



