عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایئرپورٹ کے محدود اور حساس علاقے میں داخلے کی اجازت کسی بھی شخص کا مستقل یا قانونی حق نہیں بلکہ ایک ضابطہ جاتی اجازت ہے، جسے ایئرپورٹ انتظامیہ قانون کے مطابق جاری، معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس راحیل کامران نے 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ عدالت نے اللہ بخش اور دیگر کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایئرپورٹ منیجر نے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ایکٹ 2023 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار کا انٹری پاس اور ٹیکسی اسٹیکر بحال نہ کرنے کا فیصلہ کیا، جس میں کسی قانونی، آئینی یا طریقہ کار کی خلاف ورزی ثابت نہیں ہوئی۔
پنجاب: جیلوں کی کال کوٹھڑیوں کو حقیقی اصلاح گاہوں میں بدلنے کا مشن
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار کے خلاف مسافروں سے بدسلوکی، ایئرپورٹ کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی، مختلف شکایات، ایئرپورٹس سکیورٹی فورس کی رپورٹس اور دیگر ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے ایئرپورٹ انتظامیہ نے یہ انتظامی فیصلہ کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ یہ فیصلہ کسی ایک شکایت کی بنیاد پر نہیں بلکہ مجموعی ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ عدالت نے مزید قرار دیا کہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی ایکٹ 2023 کے تحت ایئرپورٹ منیجر محض ایک انتظامی افسر نہیں بلکہ ایک قانونی اتھارٹی ہے، جس کی ذمہ داری ایئرپورٹ کی سکیورٹی، مسافروں کی سہولت، نظم و ضبط اور محفوظ آپریشن کو یقینی بنانا ہے۔ اس لیے ایئرپورٹ کے اندر ٹیکسی سروس چلانے کی اجازت کا معاملہ نجی معاہدے کا نہیں بلکہ عوامی مفاد اور سکیورٹی سے متعلق قانونی اختیار کا معاملہ ہے۔
فیصلے میں عدالت نے مزید قرار دیا کہ آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت کاروبار کرنے کی آزادی مطلق نہیں بلکہ قانون کے مطابق عائد کی جانے والی مناسب پابندیوں کے تابع ہے۔ درخواست گزار کو ٹیکسی کا کاروبار کرنے سے نہیں روکا گیا بلکہ صرف ایئرپورٹ کے حساس اور محدود علاقے تک رسائی کی اجازت نہیں دی گئی، جو سکیورٹی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر ایک معقول پابندی ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ اس کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا یا اسی نوعیت کے دیگر ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ مختلف برتاؤ نہیں کیا گیا۔
عدالت کے مطابق محض جانبداری یا اجارہ داری کے الزامات، ٹھوس شواہد کے بغیر، آئینی دائرہ اختیار استعمال کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتے۔ لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ عدالتی نظرثانی کا مقصد انتظامیہ کے فیصلے کی جگہ اپنا فیصلہ دینا نہیں بلکہ صرف یہ جانچنا ہے کہ آیا فیصلہ قانون کے مطابق، منصفانہ طریقے سے اور متعلقہ مواد کو مدنظر رکھ کر کیا گیا یا نہیں۔ چونکہ اس کیس میں کوئی بدنیتی، اختیارات سے تجاوز یا قانونی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوئی، اس لیے عدالت مداخلت نہیں کر سکتی۔
عدالت نے آئینی درخواست خارج کرتے ہوئے واضح کیا کہ چونکہ ایئرپورٹ انٹری پاس ایک ضابطہ جاتی اجازت ہے، اس لیے اگر مستقبل میں درخواست گزار قانون کے مطابق دوبارہ درخواست دینا چاہے تو یہ فیصلہ اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔