اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ نظامِ انصاف میں احتساب کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور نظامِ انصاف میں بہتری صرف فیصلوں سے نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد سے ممکن ہوگی۔
اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے زیر اہتمام قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے تحت منعقدہ قومی کانفرنس برائے جیل اصلاحات سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ نظامِ انصاف میں بہتری محض فیصلے صادر کرنے سے نہیں آئے گی بلکہ ان فیصلوں کے مؤثر نفاذ سے آئے گی، جبکہ نظامِ انصاف میں احتساب کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔
فیفا ورلڈکپ: پرتگال نےکروشیا کو 1-2 سے شکست دیکر پری کوارٹر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جیلیں فوجداری نظامِ انصاف کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں اور بامقصد اصلاحات کے لیے تمام اداروں کی مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ صوبائی قیادت کا مسلسل اور فعال کردار بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم قومی عدالتی پالیسی ساز کمیٹی کے قومی ایکشن پلان پر مربوط اور عملی اقدامات کے ذریعے مؤثر عمل درآمد چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس کانفرنس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، عدلیہ، وفاقی اور صوبائی حکومتوں، جیل انتظامیہ، انسانی حقوق کے اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کانفرنس کے شرکاء نے قیدیوں کی بحالی، جیلوں کے انتظامی نظام میں بہتری، اصلاحی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق استوار کرنے اور وفاقی و صوبائی سطح پر تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
کانفرنس کے اختتام پر جیل اصلاحات سے متعلق آئندہ کے لائحۂ عمل پر مشتمل ایک اعلامیہ بھی منظور کیا گیا، جس پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے دستخط کیے۔