ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی گزشتہ مالی سال کے دوران کارکردگی کو سراہتے ہوئے نئے مالی سال کے محصولات کا ہدف حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ایف بی آر کے سینئر افسران نے ملاقات کی، جس میں وزیراعظم نے گزشتہ مالی سال کے دوران 12.957 کھرب روپے کے محصولات کا ہدف عبور کرنے پر افسران اور ادارے کی کارکردگی کو سراہا۔
تحریک انصاف کا آزاد کشمیر کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان
وزیراعظم نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے تاریخی ریونیو ہدف کا حصول ایک اہم سنگ میل ہے اور اس کامیابی پر وہ ایف بی آر کے تمام افسران اور عملے کو فرداً فرداً اور اجتماعی طور پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران تقریباً 600 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز کی بروقت ادائیگی سے کاروباری برادری کو سہولت ملی اور برآمدات کے فروغ میں بھی مدد حاصل ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کی فیلڈ فارمیشنز اور افسران اسی جذبے کے ساتھ کام کرتے ہوئے رواں مالی سال میں 15 کھرب روپے سے زائد محصولات کا ہدف بھی حاصل کریں گے۔
وزیراعظم نے ٹیکس محصولات میں نمایاں کارکردگی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل منصور اعوان، چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال، امداد بوسال اور معاشی ٹیم کے دیگر اراکین سمیت ایف بی آر کے افسران کی کارکردگی کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے دور دراز علاقوں میں اپنی جانوں پر کھیل کر ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ میں کردار ادا کرنے والے افسران کی خدمات قابلِ تحسین ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق گزشتہ ڈھائی برسوں کے دوران ایف بی آر میں جاری اصلاحات، ڈیجیٹائزیشن پر توجہ اور مؤثر ٹیم ورک کی بدولت ادارہ ریکارڈ ٹیکس وصول کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے خود ہر ماہ دو مرتبہ ایف بی آر کے امور سے متعلق جائزہ اجلاسوں کی صدارت کی کیونکہ ایف بی آر میں اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ فارمیشنز میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی کو یقینی بنایا گیا ہے۔
وزیراعظم نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایف بی آر میں کرپٹ عناصر کی کوئی جگہ نہیں ہے اور ریونیو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان، کاروباری اور صنعتی برادری کو سہولیات فراہم کرنا بھی ادارے کی ترجیح ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایف بی آر میں جاری اصلاحات کی رفتار مزید تیز کی جا رہی ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ میں توسیع، شفافیت اور ٹیکس دہندگان کو سہولیات کی فراہمی اصلاحاتی عمل کا بنیادی محور ہیں۔ ان کے مطابق ایف بی آر کا نیا آپریٹنگ ماڈل ایک ڈیجیٹل، فیس لیس اور کم سے کم انسانی مداخلت پر مبنی ٹیکس نظام پر مشتمل ہوگا۔
وزیراعظم نے پاکستان کسٹمز سروس اور ان لینڈ ریونیو سروس کے افسران کی ترقی اور سروس کو مزید بہتر بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی۔
ملاقات کے دوران ایف بی آر کے وفد نے وزیراعظم کو ملک کے مختلف علاقوں کی فیلڈ فارمیشنز کی کارکردگی سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کراچی لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے جون 2026 کے دوران 528 ارب روپے جبکہ لاہور لارج ٹیکس پیئر یونٹ نے اسی عرصے میں 261 ارب روپے کا ریونیو جمع کیا۔
وزیراعظم کو دی گئی بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ایئرپورٹس پر کسٹم ڈیوٹی کے حجم میں 21 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔