وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور معاملات کے حل کے لیے بات چیت کے حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مولانا فضل الرحمان مذاکرات کے ذریعے کوئی قابلِ قبول لائحہ عمل نکالتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں موجود کشمیری مہاجرین نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور انہوں نے پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے جدوجہد کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کو نشستوں سے محروم کرنا یا ان کے حقوق کو محدود کرنا درست عمل نہیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ وہ کشمیریوں کو تین مختلف حوالوں سے جانتے ہیں۔ پہلی کیٹیگری ان کشمیریوں کی ہے جو گزشتہ 75 برس سے مقبوضہ کشمیر میں قربانیاں دے رہے ہیں۔ ان کے بقول ان کشمیریوں کی پاکستان سے لازوال محبت ہے اور ان کی قربانیاں دنیا کی کسی بھی آزادی کی تحریک میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
وزارتِ تجارت کا ایران کے ساتھ مخصوص برآمدات کے لیے 60 روزہ خصوصی رعایت کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ دوسری کیٹیگری ان لوگوں کی ہے جنہوں نے تقسیمِ ہند کے وقت ہجرت کی۔ ان کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں قربانیاں دینے والوں کے بعد ہجرت کرنے والے کشمیری قربانیوں کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر ہیں، لیکن ان مہاجرین کی نشستوں کو متنازع بنایا جا رہا ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ تیسری کیٹیگری آزاد کشمیر کے موجودہ رہائشیوں کی ہے، جن کی اپنی شناخت اور قربانیاں ہیں، تاہم پہلی دو کیٹیگریز میں شامل کشمیریوں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی پنجاب سے بھی لاکھوں لوگ پاکستان آئے اور انہوں نے قربانیاں دیں۔ ان کے بقول پنجاب میں آنے والے مہاجرین کو بھی ان پر فوقیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا اپنا خاندان اور آباؤ اجداد سیالکوٹ میں تھے، لیکن قربانیاں دینے والے مہاجرین یہاں آ کر آباد ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں گھر بیٹھے آزادی ملی، جبکہ مہاجرین نے اس آزادی کے لیے بڑی قربانیاں دیں۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جو لوگ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں قربانیاں دے رہے ہیں یا وادی میں جدوجہد کر رہے ہیں، ان کا استحقاق زیادہ ہے۔ ان کے مطابق 1947 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جتنی قربانیاں دی گئی ہیں، اتنی آزاد کشمیر میں نہیں دی گئیں اور موجودہ آزاد کشمیر کے رہنے والوں کو گھر بیٹھے آزادی ملی۔
مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ وہ اس معاملے پر پہلے بھی قومی اسمبلی کے فلور پر اپنا مؤقف پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان ثالثی کے لیے جو بھی کردار ادا کریں گے، اسے خوش آمدید کہیں گے اور اگر تمام فریق کسی اتفاقِ رائے پر پہنچ جاتے ہیں تو وہ بھی اس کی حمایت کریں گے۔