اسلام آباد میں منعقدہ جیل اصلاحات کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر جیل اصلاحات کرنا مقصود ہیں تو اس کا آغاز اڈیالہ جیل سے کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان ناحق قید ہیں اور انہیں ان کے بنیادی حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے مطالبہ کیا کہ اڈیالہ جیل کے باہر ملاقاتیوں کے لیے انتظار گاہ قائم کی جائے اور عمران خان کو اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت جیل میں خراب ہوئی، اس لیے ان کا علاج ان کے ذاتی معالجین سے کرایا جانا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے ویژن کے مطابق خیبرپختونخوا میں قیدیوں کو تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں جلسے جلوس کی اجازت ہوتی ہے، مگر یہاں جلسہ کرنے پر مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں، حتیٰ کہ کم عمر بچوں پر بھی دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر پی پی پی سے علیحدگی کے بعد استحکام پاکستان پارٹی میں شامل
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی ان کے بیٹوں کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے بات کرائی جائے اور اگر ان کی بہنوں کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا سکتی تو ان کے خلاف واٹر کینن کے استعمال سے گریز کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو ذاتی معالجین اور اپنے خاندان تک رسائی فراہم کی جانی چاہیے۔
جیل اصلاحات کانفرنس سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھی خطاب کیا۔
چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانفرنس میں شریک تمام افراد کو خوش آمدید کہتے ہیں اور زیر التوا مقدمات کے فیصلوں میں پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیلوں کی حالت بہتر بنانا آئینی طور پر صوبوں کی ذمہ داری ہے اور نظام انصاف میں قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظام انصاف میں احتساب کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور جیلوں میں صحت، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق فوجداری نظام انصاف کسی بھی معاشرے میں بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور جیلوں کی حالت زار بہتر بنانے کے لیے صوبائی سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جا چکی ہیں۔