ملک بھر میں بارشوں اور آسمانی بجلی نے تباہی مچا دی، مختلف حادثات میں 14 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
ملک کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور مختلف حادثات کے نتیجے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مزید بارشوں اور سیلابی صورتحال کے پیش نظر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
وینزویلا میں زلزلوں سے ہلاکتیں 2000 سے تجاوز کرگئیں
سوات میں سیف اللہ جھیل میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے 6 سیاح جاں بحق ہو گئے۔ ریسکیو حکام نے تمام لاشیں نکال لی ہیں جبکہ ایک خاتون تاحال لاپتا ہے اور اس کی تلاش جاری ہے۔
اٹک میں دیوار اور چھت گرنے کے دو مختلف واقعات میں 2 بھائیوں سمیت 3 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 5 افراد زخمی ہوئے۔ لنڈی کوتل میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 بچے جاں بحق اور 4 افراد زخمی ہو گئے۔
دیربالا میں آسمانی بجلی مدرسے کے قریب گری جس کے باعث بھگدڑ مچ گئی اور 20 طالبات زخمی ہو گئیں۔ ژوب میں بارش کے دوران چھتیں گرنے سے ایک خاتون اور ایک بچہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ گنجیال قائد آباد میں آسمانی بجلی گرنے سے ایک شہری دم توڑ گیا۔
ایبٹ آباد میں برساتی نالے میں گاڑی بہنے کے نتیجے میں 3 افراد زخمی ہوئے، جبکہ مردان میں طوفانی بارش کے دوران سائن بورڈ اور دیوار گرنے سے 2 بچوں سمیت 3 افراد زخمی ہو گئے۔
دوسری جانب اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش کے بعد گرمی کا زور ٹوٹ گیا اور موسم خوشگوار ہو گیا۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں بھی تیز بارش اور ٹھنڈی ہواؤں کے باعث موسم خوشگوار رہا، تاہم متعدد فیڈرز ٹرپ ہونے سے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
اٹک، پنڈی بھٹیاں، منڈی بہاؤالدین، سرگودھا، بھیرہ، حافظ آباد، قصور اور مریدکے میں بھی شدید بارشیں ہوئیں، جبکہ گجرات میں موسلادھار بارش کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آ گئے۔
ہری پور میں تیز بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی اور سڑکوں پر پانی جمع ہو گیا۔ ایبٹ آباد میں گرج چمک کے ساتھ ہونے والی بارش کے بعد سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں اور بارش کا پانی دکانوں میں داخل ہو گیا۔
خضدار، ژوب اور کوہلو میں بھی بارش ہوئی جبکہ صوابی میں بارش کے ساتھ ژالہ باری بھی ریکارڈ کی گئی۔ کراچی میں بھی بادل چھائے رہے اور نیو کراچی، گلشن معمار اور گڈاپ کے علاقوں میں بوندا باندی ہوئی۔
این ڈی ایم اے نے ممکنہ خطرات کے پیش نظر الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ پہاڑی ندی نالوں اور برساتی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔