قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت، بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق
پاکستانی دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں مکمل ہو گئی ہیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق مختلف امور پر مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔
برطانیہ میں شدید گرمی سے عوام بے حال، جون کا مہینہ 142 سالہ تاریخ کا دوسرا گرم ترین مہینہ رہا
دفتر خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں طے پانے والی بات چیت کی بنیاد پر ہوئی۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئندہ بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور اگلی ملاقات ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے بعد جلد از جلد منعقد کی جائے گی۔
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر تصدیق کی کہ آئندہ مذاکراتی دور سابق ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین کی تقریبات کے بعد منعقد کیا جائے گا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ہفتے کے روز تہران میں شروع ہونے والی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار کاظم غریب آبادی کے ساتھ جنگ کے مستقل خاتمے پر بات چیت کے لیے قطر میں موجود تھے۔
قطری حکومت کے مطابق سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے بھی ملاقات کی۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تفصیلات کو حتمی شکل دینا ہے تاکہ اعلیٰ سطح کے رہنماؤں کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک سمیت کئی اہم معاملات زیر غور آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب بھی ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے اور اس سلسلے میں مزید بات چیت شروع کی جائے گی۔
دوسری جانب قطری وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے ایرانی مذاکرات کار کاظم غریب آبادی اور دیگر ایرانی حکام سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستانی ثالث بھی شریک تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ ایرانی وفد کی امریکی فریق کے ساتھ کوئی براہ راست ملاقات نہیں ہوئی، جبکہ ثالثوں کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں لبنان اور ایران کے منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے معاملات زیر بحث آئے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق کاظم غریب آبادی نے دوحہ مذاکرات کے اختتام پر بتایا کہ فریقین نے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی اور ان کے اندراج کے لیے فوری طور پر ایک مواصلاتی چینل قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ قطر میں ایران کے ساتھ ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے پاک رکھنے کا عمل درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان یہ سفارتی رابطے اس بات کی ابتدائی علامت سمجھے جا رہے ہیں کہ حالیہ کشیدگی اور جھڑپوں کے باوجود سفارت کاری کا عمل برقرار ہے اور مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششیں جاری ہیں۔
قطر اور پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت، جسے گزشتہ ماہ سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن میں حتمی شکل دی گئی تھی، میں 60 روزہ جنگ بندی، بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ کے خاتمے کے ساتھ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حتمی معاہدے کے لیے ایک واضح ٹائم ٹیبل بھی شامل ہے۔