عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی صورتحال کے اثرات کے باوجود حکومت نے پیٹرولیم قیمتوں میں عوامی ریلیف برقرار رکھنے کا مؤقف دہرایا ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں عالمی رجحانات، درآمدی انحصار اور ملکی معاشی حالات کو بیک وقت مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
علی پرویز ملک نےنجی ٹی وی میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے ہمیشہ عوامی ریلیف کو ترجیح دینے کی ہدایت کی گئی اور مشکل حالات میں کیے گئے فیصلوں پر حکومت آج بھی قائم ہے۔ ان کے مطابق جنگی صورتحال سے قبل پیٹرولیم لیوی 84 روپے فی لیٹر تھی جبکہ اس وقت یہ 66 روپے فی لیٹر ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی۔ ان کے مطابق اپریل کے دوران ڈیزل کی قیمت 520 روپے اور پیٹرول 460 روپے تک جا پہنچا تھا، تاہم بعد ازاں حکومت نے ڈیزل میں تقریباً 200 روپے اور پیٹرول میں 150 سے 155 روپے تک ریلیف فراہم کیا، جبکہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔علی پرویز ملک کے مطابق پاکستان اپنی پیٹرول کی ضروریات کا تقریباً 70 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے جبکہ مقامی خام تیل سے صرف 25 سے 30 فیصد پیٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر یقینی حالات کے دوران مختلف ذرائع سے نسبتاً کم قیمت پر تیل کی فراہمی یقینی بنائی جس سے مالی فائدہ حاصل ہوا، جبکہ صوبائی حکومتوں کے تعاون سے بھی معاملات کو سنبھالا گیا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ وقت میں عالمی سطح پر پیٹرول کی قیمت جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 20 ڈالر فی بیرل زیادہ ہے، اسی لیے لیوی میں کمی کے باوجود قیمتوں پر دباؤ برقرار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے وعدوں پر قائم ہے اور جیسے ہی عالمی منڈی میں مزید کمی آئے گی، اس کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔وفاقی وزیر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ قیمتوں سے متعلق فیصلے کسی بیرونی دباؤ کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم نے کسی دباؤ کے بغیر معاملات پر مشاورت کی اور تمام فیصلے ملکی مفاد کو سامنے رکھ کر کیے گئے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رواں ہفتے عالمی منڈی میں پیٹرول کی پلیٹس قیمت 91.68 سے 98.35 ڈالر فی بیرل جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 104.79 سے 109.09 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی۔ ان کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین عالمی منڈی کے رجحانات، درآمدی لاگت اور ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے تاکہ جہاں ممکن ہو عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔