اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا ہے کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم شہباز شریف کی دعوت پر گزشتہ روز پاکستان کا ایک روزہ خصوصی دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والی باضابطہ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ایس آئی ایف سی کے تعاون سے توانائی شعبے اور تیل کی ترسیل کا نظام مزید مضبوط
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن سٹاک میں ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے، جن میں پاکستان اور قطر نے بطور ثالث شرکت کی جبکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستان کی نمائندگی کی۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ مذاکرات میں مختلف اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مزید پیش رفت کے لیے پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں متعلقہ فریقین سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ثالثی کے کردار پر مختلف ممالک کی جانب سے ملنے والی تعریف اور حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے، جبکہ پاکستانی میڈیا نے بھی اس پورے عمل میں ذمہ داری اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تین خصوصی تکنیکی ورکنگ گروپس تشکیل دیے گئے ہیں۔ پہلا گروپ جوہری پروگرام سے متعلق امور، دوسرا پابندیوں اور منجمد اثاثوں کے معاملات جبکہ تیسرا لبنان کی صورتحال سے متعلق امور کا جائزہ لے رہا ہے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں امریکا اور ایران کی متعلقہ ٹیموں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری اور فعال کردار جاری رکھے گا اور عالمی برادری کی جانب سے اس کردار کی ستائش کا خیرمقدم کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 21 جون کو پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس بھی منعقد ہوا، جس میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور برگن سٹاک مذاکرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب، اٹلی، کینیڈا، بحرین اور ایران سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے۔
طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ صومالیہ کے ساحلی علاقے میں کچھ پاکستانیوں کو یرغمال بنایا گیا ہے اور ان کی محفوظ بازیابی کے لیے پاکستان صومالی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔