ذرائع کے مطابق ججز انٹرویو کمیٹی کے معاملے پر کمیشن میں اختلاف رائے سامنے آیا، تاہم قواعد اکثریتی رائے سے منظور کر لیے گئے۔

ججز انٹرویو کمیٹی سات رکنی ہوگی، جس میں وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور متعلقہ ہائی کورٹ کے ججز شامل ہوں گے۔
اس کے علاوہ کمیٹی میں حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک ایک رکن، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور پاکستان بار کونسل کا ایک رکن بھی شامل ہوگا۔
ٹیکس گزار اور افسر کے درمیان تعلق ختم ہوگا اور فیس لیس سسٹم اس کی جگہ لے گا: وزیر خزانہ
ذرائع کے مطابق کمیٹی امیدواروں کے انٹرویوز کے بعد اپنی سفارشات اور رائے جوڈیشل کمیشن کو ارسال کرے گی، تاہم کمیٹی کی سفارشات کو من و عن قبول کرنا لازم نہیں ہوگا اور حتمی فیصلہ جوڈیشل کمیشن کثرتِ رائے سے کرے گا۔
ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج اور جوڈیشل کمیشن کے رکن جسٹس منیب اختر نے انٹرویو کمیٹی میں بار نمائندوں کی شمولیت پر اختلافی رائے دی۔
ادھر 35 رکنی جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینیٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر نے شرکت نہیں کی اور اجلاس کا بائیکاٹ کیا۔
ذرائع کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں 10 ججز کی تقرری کی جائے گی، جس کے لیے نام 4 جولائی تک طلب کر لیے گئے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں 3 ججز تعینات کیے جائیں گے جبکہ قواعد کی منظوری کے بعد سندھ ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ میں بھی تقرریوں کا عمل شروع ہونے کا امکان ہے۔



