مچھلی کا تیل دنیا بھر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے غذائی سپلیمنٹس میں شمار ہوتا ہے، جس میں اومیگا 3 فیٹی ایسڈز کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے اور انہیں عمومی طور پر دماغی صحت اور یادداشت بہتر بنانے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔
تاہم امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں اس تاثر پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے 150 شرپسندوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل
سدرن کیلیفورنیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مچھلی کے تیل کے کیپسولز کا استعمال یادداشت، دماغی خلیات یا مجموعی دماغی افعال میں کسی واضح بہتری کا باعث نہیں بنتا۔
تحقیق میں 55 سے 80 سال کی عمر کے 365 ایسے افراد کو شامل کیا گیا جو ڈیمینشیا سے محفوظ تھے لیکن ان میں اس مرض کے خطرات موجود تھے، جیسے موٹاپا، ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول یا غیر فعال طرز زندگی۔ ان افراد میں اومیگا 3 کی سطح بھی کم تھی۔
شرکاء کو دو گروپس میں تقسیم کیا گیا، جن میں سے ایک گروپ کو دو سال تک روزانہ مچھلی کے تیل کے کیپسول دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو پلیسبو دیا گیا۔ دونوں گروپس کو وٹامن بی کمپلیکس بھی استعمال کروایا گیا۔
مطالعے کے دوران ایم آر آئی اسکینز، خون کے ٹیسٹ اور دماغی صلاحیت کے مختلف ٹیسٹ کیے گئے۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ اگرچہ مچھلی کے تیل کے استعمال سے جسم میں اومیگا 3 کی سطح بڑھ گئی، لیکن دماغی کارکردگی یا یادداشت میں کوئی قابل ذکر بہتری سامنے نہیں آئی۔
محققین کے مطابق دونوں گروپس کے نتائج تقریباً یکساں تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اومیگا 3 سپلیمنٹس دماغی صحت کے لیے وہ مؤثر کردار ادا نہیں کرتے جو عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ان سپلیمنٹس کی بجائے دماغی صحت کے لیے ورزش، اچھی نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور اومیگا 3 سے بھرپور قدرتی غذائیں جیسے مچھلی، گریاں اور بیج زیادہ فائدہ مند ہیں۔
یہ تحقیق جرنل ای بائیو میڈیسن میں شائع ہوئی ہے۔