گلگت میں پیپلز پارٹی کے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ گزشتہ انتخابات کے دوران بھی گلگت آئے تھے اور گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں جا کر پیپلز پارٹی کا منشور پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ دیے تھے۔
بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ فارم 45 کے مطابق پیپلز پارٹی کو سب سے زیادہ ووٹ ملے تھے، تاہم گزشتہ انتخابات میں ان کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ وہ خاتون اول آصفہ بھٹو کے ہمراہ گلگت آئے ہیں اور عوام کو فارم 45 کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو بھی ناانصافی کی اجازت نہیں دیں گے۔
پاکستان ٹرمپ انتظامیہ کا اہم شراکت دار، علاقائی عدم استحکام چیلنج ہے: امریکی میڈیا
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پوری امت مسلمہ اس وقت ایک بڑے امتحان سے گزر رہی ہے اور ایران، لبنان اور غزہ کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں کون سی سیاسی جماعت ان کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو ایٹمی پروگرام کا تحفہ دیا تھا اور یہ عزم ظاہر کیا تھا کہ قوم گھاس کھا لے گی مگر ایٹم بم ضرور بنائے گی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے ملک کو میزائل ٹیکنالوجی دی، کیونکہ ایٹمی صلاحیت کے مؤثر استعمال کے لیے میزائل ٹیکنالوجی ضروری ہوتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے کی بنیاد صدر آصف علی زرداری نے رکھی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر زرداری نے اپنے دورِ حکومت میں غیر ملکی بیسز بھی بند کرائے تھے اور انہی تاریخی فیصلوں کی وجہ سے آج پاکستان محفوظ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کی وجہ سے پوری دنیا پر معاشی بوجھ بڑھا ہے اور اگر امن کی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو عوام پر پڑنے والا معاشی دباؤ بھی کم ہوگا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایف سی آر کے خاتمے کی بنیاد رکھی تھی جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1994 میں گلگت بلتستان کے عوام کو سیاسی حقوق دلانے کے لیے اہم اقدامات کیے۔ انہوں نے کہا کہ آج دیگر سیاسی جماعتیں بھی انہی جدوجہد کے نتیجے میں اپنے پرچم لہرا کر عوام سے ووٹ مانگ رہی ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو شناخت دی اور خیبرپختونخوا کا نام بھی انہی کے دور میں رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو کا نواسا اور نواسی گلگت بلتستان کو آئینی حقوق دلائیں گے اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی روح کے مطابق عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ دن دور نہیں جب ملک میں پانچوں صوبوں کی زنجیرِ بے نظیر کا نعرہ گونجے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ادوار میں صرف امیر طبقہ ترقی کرتا ہے اور وہ امیروں کی ترقی کو ہی معاشی ترقی سمجھتے ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی پر یقین رکھتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب شہید بے نظیر بھٹو عوام کو روزگار فراہم کرتی تھیں تو ان کے خلاف مقدمات بنائے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہید بے نظیر بھٹو کا مؤقف تھا کہ اگر روزگار دینا جرم ہے تو وہ یہ جرم بار بار کریں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 7 جون کے بعد نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے اور یہ علاقہ ملک کے لیے کوہ نور ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے تھرپارکر کی طرز پر بجلی کے منصوبے شروع کیے جائیں گے اور گلگت بلتستان میں 50 ہزار میگاواٹ تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔