Gas Leakage Web ad 1

ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات محمد جاوید ملک کی باوقار ریٹائرمنٹ اور مثالی سرپرستی

تحریر: کرامت عزیز

0

کسی بھی سرکاری محکمے میں اپنی ملازمت کو دیانت داری، پیشہ ورانہ مہارت اور اخلاقِ حسنہ کے ساتھ مکمل کر کے سروس سے باعزت ریٹائر ہوناآج کے دور میں کسی اعزاز سے کم نہیں ہے۔ جاوید ملک صاحب کی ریٹائرمنٹ سے ہم ایک ہمدرد، باوقار، محنتی اور فرض شناس افسرسے محروم ہوئے ہیں، یہ نظام دنیاہے وقت تو چلتا ہے لیکن کچھ لوگوں کے ساتھ بیتا ہوا وقت کبھی بھولتا نہیں۔محمد جاوید ملک کا طویل سرکاری سفر محض دفتری فائلوں کو آگے بڑھانے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ آزاد کشمیر، بالخصوص میرپور ڈویژن میں ریاست اور صحافت کے مابین ایک مضبوط اور ہموار پل تعمیر کرنے کی داستان ہے۔ محکمہ اطلاعات میں مختلف عہدوں پر رہتے ہوئے جس طرح انہوں نے قابلیت اور محنت کے ساتھ اپنے فرائض سرانجام دیے، اس کی گواہی آج ریاست کے صحافی اور انتظامی افسران دے رہے ہیں۔ وہ صحافیوں اور حکومت کے درمیان ایک حقیقی اور مضبوط پل کا کردار ادا کرتے رہے، جہاں انھیں دونوں فریقین کا اعتماد ہمیشہ بحال رہا۔
ان کے دل میں اپنے محکمے کی ساکھ اور حکومت کی عزت و تکریم کا یہ عالم تھا کہ وہ دفتری حدود و قیود سے بالاتر ہو کر سوچتے تھے۔ اگر کوئی ایسا کام سامنے آتا جو تکنیکی یا ضابطے کے لحاظ سے ان کے محکمے یا دائرہ اختیار کا نہیں بھی ہوتا تھا، تب بھی وہ اسے ادھورا نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ ہر سرکاری اور عوامی معاملہ احسن اور بہترین طریقے سے سرانجام پائیں تاکہ محکمے اور حکومت کا وقار بلند ہو۔ ان کا یہ جذبہ یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ محض نوکری نہیں کر رہے تھے، بلکہ ریاست کی عزت کو اپنی عزت سمجھتے تھے۔کوروناوائرس ہو،معرکہ حق یا آپریشن بنیان مرصوص انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں بڑھ چڑھ کرباوقار طریقے سے نبھائیں۔محمد جاوید ملک صاحب کی شخصیت کا ایک اور پُرکشش پہلو دفتری معاملات میں اقربا پروری سے پاک رویہ تھا۔ یہ بات بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگی کہ ان کے اپنے صاحبزادے بھی ہمارے ساتھ اسی دفتر میں کام کرتے تھے، لیکن مجال ہے کہ انہوں نے کبھی افسر اور ماتحت کے رشتے میں خونی رشتوں کو حائل ہونے دیا ہو۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دفتری معاملات اور پیشہ ورانہ امور میں انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے سے بڑھ کر ہمیں عزت دی اور ہماری حوصلہ افزائی کی۔ ان کا یہ طرزِ عمل ہمارے لیے نہ صرف حیران کن تھا بلکہ یہ ان کے وسیع ظرف اور اعلیٰ تربیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ایک مخلص اور شفیق سرپرست کے طور پر انہوں نے اپنے جونیئر کی پروموشن اور ترقی کے معاملات میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیابلکہ کھلے دل سے جناب ڈائریکٹر،جناب سیکرٹری سے لیکر وزراء کرام تک اپنے سٹاف کی پروموشن یا دیگر مسائل کے حل کے لیے کوششیں کرتے۔ بعض افسران اپنے جونیئرز کو آگے بڑھتا دیکھ کر کتراتے ہیں، لیکن جاوید ملک صاحب اپنے عملے کی ترقی کے لیے کھلے دل سے بھرپور کوشش کرتے، فائلیں خود آگے بڑھاتے اور اپنی قلم سے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ وہ حقیقی معنوں میں اپنے جونیئرز کے محسن تھے۔بات صرف دفتری معاملات تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ ان کا اخلاص اور اپنائیت کا یہ عالم تھا کہ اگر کبھی ہم نے ان سے اپنے کسی ذاتی کام کا ذکر کیا، جس کا تعلق انتظامیہ یا کسی دوسرے سرکاری محکمے سے ہوتا، تو وہ اپناذاتی اثرورسوخ استعمال کر کے بھرپورکوشش کرتے۔ انھوں نے اپنے سٹاف اور ساتھیوں کے کاموں کے لیے کبھی کوئی آر محسوس نہیں کیاجہاں تک ممکن ہوتابھرپورکوشش کرتے۔ جاوید ملک صاحب نے نہ صرف عملہ سے دفتری کام لیابلکہ بہترین سرپرست بھی تھے انہی کی بدولت آج میرپور دفتر میں جتنا بھی عملہ ہے سب کہ سب ایم ایس سی پاس ہیں یہ سب ان کی بدولت ہے۔ایک نائب قاصد جب اس نے سروس جوائن کی تواس کی تعلیم میٹرک تھی جاوید صاحب نے اسے بھی بی اے کروائی بلکہ سروس کے آخری ایام میں انھوں نے اسے رولز کے تحت جونیئر کلرک کی پروموشن بھی دلوائی۔ آج جب وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو کر زندگی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، تو آزاد کشمیر کی صحافتی برادری اور بالخصوص ان کاجونیئرسٹاف انہیں گہرے احترام، محبت اور نم آنکھوں کے ساتھ الوداع کہہ رہا ہے۔ ملازمت کا یہ باب تو ختم ہو گیا، مگر انسانیت، مخلص دوستی اور سرپرستی کا جو نقش انہوں نے ہمارے دلوں پر چھوڑا ہے، وہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، تندرستی اور لمبی عمر عطا فرمائے اور ان کا مستقبل بھی ماضی کی طرح پُرخلوص اور کامیاب رہے۔ (آمین)

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.