Gas Leakage Web ad 1

وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا صوبائی حقوق کے لیے پہلی بار ایک پیج پر آگئے

0

ذرائع کے مطابق صوبے میں پہلی مرتبہ وزیر اعلیٰ اور گورنر خیبر پختونخوا صوبائی حقوق کے معاملے پر ایک مؤقف پر آگئے اور گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش کے مسئلے پر سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مشترکہ جدوجہد کا اعلان کر دیا۔

Gas Leakage Web ad 2

خیبر پختونخوا اسمبلی کے قومی جرگہ ہال میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل خان آفریدی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس موقع پر اسپیکر اسمبلی بابر سلیم سواتی اور اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، وزارتوں کی تقسیم پر بحث و تکرار

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور آئین کے آرٹیکل 151 کے تحت خوراک کی اشیاء کی نقل و حمل پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کا عام شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کر رہا ہے، لیکن گیس کی پیداوار کے باوجود سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم نہیں کی جا رہی، جبکہ صوبے کی گیس کی ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ پنجاب کی جانب سے آٹے کی ترسیل روکنے سے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا ہے اور وہ یہ دیکھ رہے ہیں کہ وفاقی پالیسیوں کی ناکامی کا بوجھ خیبر پختونخوا پر ڈالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے مطابق جو صوبہ گیس پیدا کرتا ہے، اس کی پہلی ترجیح اس کی اپنی ضرورت پوری کرنا ہوتی ہے، لیکن خیبر پختونخوا کے عوام کو مشکلات کا سامنا ہے اور انہیں ایک بند گلی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر صوبے کے عوام کو مزید تنگ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ وہ کوئی بڑا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی حکومت مختلف منصوبوں میں غیر آئینی اور غیر قانونی رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ صوبائی حکومت کئی منصوبوں میں وفاق کے ساتھ بریج فنانسنگ بھی کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں گیس کی بندش مکمل طور پر غیر قانونی ہے اور وہ اپنے عملے کو ہدایت دیتے ہیں کہ اس حوالے سے کسی بھی غیر آئینی اقدام میں وفاق کا ساتھ نہ دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاق نے خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع کے 12 ارب روپے بھی کاٹے ہیں۔

امن و امان سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کور کمانڈر ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں انہوں نے صوبے میں بدامنی کے حل کے لیے تجاویز پیش کی تھیں لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مداخلت ختم کر دی جائے اور صوبائی حکومت کے ساتھ مل کر حکمت عملی بنائی جائے تو 100 دن میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ رویے حالات کو بہتر بنانے کے بجائے مزید خراب کر رہے ہیں۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی ترسیل اور سی این جی کی بندش اس وقت صوبے کے اہم ترین مسائل ہیں جن سے عام اور غریب طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو ان مسائل پر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ گندم اور سی این جی کے معاملات پر عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس سلسلے میں حکومت اور اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے پر وہ اسپیکر صوبائی اسمبلی کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔

گورنر نے کہا کہ وفاق کی جانب سے ایک طرف پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں جبکہ دوسری جانب سی این جی کی بندش سے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا 508 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ اس کا استعمال صرف 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے، اس کے باوجود سی این جی کی بندش آئین کے آرٹیکل 158 اور 151 کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سی این جی کی بندش سے سب سے زیادہ غریب طبقہ متاثر ہو رہا ہے اور وہ اس مسئلے پر وفاقی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گندم اور سی این جی کی بندش آئینی خلاف ورزی ہے اور وزیراعظم کو اس کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گندم اور سی این جی کی بندش سے صوبے کے عوام، خصوصاً غریب طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کو اس کا آئینی حق دیا جائے تو اسے گندم کے لیے کسی دوسرے پر انحصار نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی سے متاثر ہے اور موجودہ معاشی مشکلات نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کو بنیادی سہولتیں نہ ملیں تو لوگ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر حلف لینے کے بعد اس پر مکمل عمل درآمد بھی یقینی بنانا چاہیے۔

اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ وفاقی فیصلوں میں صوبے کی نمائندگی ضروری ہے اور گورنر کو بھی وفاقی نمائندہ ہونے کے ناطے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صوبہ سب کا ہے اور اس کے مسائل کے حل کے لیے سب کو مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.