سائنسدانوں نے کوئلے سے چلنے والی بیٹری بنالی
ماہرین کے مطابق یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں تھرمل پاور پلانٹس کے ڈیزائن میں نمایاں تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔
روایتی طریقۂ کار میں کوئلہ جلا کر بجلی پیدا کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں بڑی مقدار میں کاربن اخراج اور فضائی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران پیرس موسمیاتی معاہدے کے تحت دنیا بھر میں کاربن نیوٹرل توانائی کے حصول پر زور دیا جا رہا ہے، جبکہ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک اس سلسلے میں متبادل ذرائع تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔
اسی تناظر میں شینزن یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے زیرو کاربن ایمیشن کول فیول سیل (ZC-DCFC) کے نام سے ایک نئی ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے۔ اس نظام میں کوئلے کو جلانے کے بجائے پہلے باریک پیس کر خشک کیا جاتا ہے، جس کے بعد مخصوص پری ٹریٹمنٹ کے ذریعے اسے فیول سیل کے اینوڈ چیمبر میں شامل کیا جاتا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا توانائی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
دوسری جانب کیتھوڈ چیمبر میں آکسیجن فراہم کی جاتی ہے جہاں آکسائیڈ ممبرین کے ذریعے الیکٹرو کیمیکل آکسیڈیشن کا عمل انجام پاتا ہے۔ اس عمل کے دوران پیدا ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سسٹم کے اندر ہی قابو میں رکھا جاتا ہے اور بعد ازاں اسے مفید کیمیکلز، جیسے سینگاس، میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ جدید فیول سیل تقریباً 40 فیصد تک افادیت کے ساتھ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو اسے روایتی طریقوں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور ماحول دوست بناتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر اختیار کیا گیا تو یہ نہ صرف توانائی بحران پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی لانے کا باعث بن سکتی ہے۔