نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس: عام انتخابات، ای-اسٹیمپنگ اور تعلیمی منصوبوں کی منظوری
نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس (ر) یار محمد کی زیر صدارت کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں عام انتخابات، انتظامی امور اور حکومتی گورننس سے متعلق معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں تمام کابینہ اراکین، چیف سیکریٹری، آئی جی پولیس اور مختلف محکموں کے سیکریٹریز نے شرکت کی۔ اس موقع پر "معرکہ حق” کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک افواج کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا اور ملک کے دفاع کے لیے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ نگران وزیراعلیٰ نے سابقہ فیصلوں پر عملدرآمد کی رفتار کا جائزہ لیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی کہ عوامی خدمات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس کے دوران تعلیم کے شعبے میں بہتری کے لیے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ اور یونیورسٹی آف لاہور کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) کی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ صوبے میں ای-اسٹیمپ کے اجرا کی بھی منظوری دی گئی، جس کا مقصد عوام کو سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ جعلی اسٹیمپ پیپرز اور فراڈ جیسے جرائم کا جڑ سے خاتمہ کرنا ہے۔ سماجی بہبود کے حوالے سے کابینہ نے ایک کروڑ روپے کے فنڈز کی منظوری دی جو گلگت میں معذور افراد کی فلاح و بہبود اور تربیت کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم (ILC) کو فراہم کیے جائیں گے۔
نگران وزیراعلیٰ جسٹس (ر) یار محمد نے اپنے خطاب میں تمام اداروں کو آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض کی انجام دہی اور انتخابی عمل میں مکمل غیر جانبداری برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت قانون کی بالادستی اور میرٹ پر پختہ یقین رکھتی ہے اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے شفافیت کو ہر سطح پر یقینی بنایا جائے گا۔ اجلاس کے اختتام پر حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان میں پرامن اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ ایک جوابدہ نظامِ حکمرانی قائم ہو سکے۔