بحرِ اوقیانوس میں موجود ایک کروز شپ میں مبینہ طور پر ہینٹا وائرس کے باعث تین افراد ہلاک ہو گئے۔
عالمی ادارہ صحت نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر ہینٹا وائرس کے پھیلاؤ کے شبہے کے نتیجے میں تین اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
ادارے کے مطابق ایک کیس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ پانچ مشتبہ کیسز کی تحقیقات جاری ہیں، اور ایک 69 سالہ برطانوی شہری جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں زیرِ علاج ہے۔
ہینٹا وائرس عموماً چوہوں جیسے جانوروں کے پیشاب یا فضلے کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور یہ شدید سانس کی بیماری کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ شاذ و نادر ہی یہ انسان سے انسان میں بھی منتقل ہوتا ہے۔
برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔
یہ واقعہ ’ایم وی ہونڈیس‘ نامی کروز شپ پر پیش آیا، جو ارجنٹینا سے کیپ ورڈے جا رہی تھی۔
جنوبی افریقا کی وزارتِ صحت کے ترجمان فوسٹر موہیل نے اس سے قبل کم از کم دو افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔