آبادی کے لحاظ سے کینیڈا کے سب سے بڑے صوبہ اونٹاریو کے اسکولوں کے اندر موبائل فون کے استعمال کے ساتھ ساتھ طلبہ کے سوشل میڈیا استعمال پر بھی ممکنہ پابندیوں کی تجویز نے تعلیمی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ حکومتی سطح پر ان اقدامات پر سنجیدگی سے غور جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد اس حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔
سندھ حکومت کا کراچی کے پسماندہ علاقوں اور صنعتوں کو سستی بجلی دینے کا فیصلہ
ذرائع کے مطابق مجوزہ پالیسی کے تحت طلبہ کو اسکول کے اوقات میں موبائل فون اپنے پاس رکھنے یا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مزید برآں، کم عمر طلبہ کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود یا کنٹرول کرنے کے لیے بھی اقدامات زیرِ غور ہیں، تاکہ ان کے ذہنی اور تعلیمی مسائل کو کم کیا جا سکے۔اس وقت اونٹاریو میں کلاس روم کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پہلے ہی پابندی موجود ہے، اور طلبہ کو صرف تدریسی مقاصد یا اساتذہ کی اجازت سے فون استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ تاہم نئی تجویز ان قواعد کو مزید سخت کرتے ہوئے پورے اسکول تک توسیع دے سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق موبائل فون اور سوشل میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال طلبہ کی توجہ کو متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث تعلیمی کارکردگی میں کمی، ذہنی دباؤ، بے چینی اور آن لائن ہراسانی جیسے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر سخت پابندیاں نافذ کی گئیں تو اس سے طلبہ کے سیکھنے کے ماحول میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
دوسری جانب اس ممکنہ فیصلے پر عوامی ردعمل بھی تقسیم نظر آ رہا ہے۔ کئی والدین اور اساتذہ اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے اسے ضروری قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض طلبہ اور والدین اسے حد سے زیادہ سخت سمجھتے ہیں اور ہنگامی حالات میں رابطے کے مسائل پر تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ یا حتمی اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم جاری مشاورت کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے بڑا فیصلہ سامنے آ سکتا ہے
