وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیر صدارت سالانہ ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا، جس میں اطلاعات و تعلقات عامہ، سائنس و ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، قانون، مائنز و منرلز اور لیبر ڈیپارٹمنٹس کے نئے منصوبوں پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران صحافیوں کو میڈیا پروڈکشن اور براڈکاسٹنگ سیٹ اپس قائم کرنے کے لیے بلا سود قرضوں کی فراہمی کی اسکیم تیار کرنے کی ہدایت دی گئی۔
حملہ آور مسیحیت مخالف نظریات کاحامل تھا، اسکے دل میں بہت نفرت تھی، امریکی صدر
سہیل آفریدی نے کہا کہ بلا سود قرضوں کے ذریعے نوجوان صحافیوں کو خود روزگاری کے مواقع ملیں گے اور وہ اپنے پلیٹ فارمز قائم کرنے کے قابل ہوں گے، جس سے انہیں خودمختاری اور بااختیار ہو کر اپنے فرائض آزادانہ انجام دینے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں صحافیوں کے لیے میڈیا کالونیوں کے قیام اور ضم اضلاع میں پریس کلبوں کی بہتری کے لیے اسکیمیں تجویز کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔
وزیراعلیٰ نے تمام جوڈیشل کمپلیکسز میں ڈے کیئر سینٹرز قائم کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، جبکہ پشاور میں جوڈیشل اکیڈمی کے قیام اور باجوڑ و مانسہرہ میں ڈسٹرکٹ جوڈیشل کمپلیکسز کے قیام سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ ورک پلیس ہراسانی کے قانون کو مزید سخت بنانے اور شکایات کے عمل کو خفیہ رکھنے کے لیے ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت دی گئی۔
صوبے میں چائلڈ لیبر کے خاتمے اور متاثرہ بچوں کو تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کے لیے بھی اسکیم تیار کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ مائننگ والے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی ہدایت بھی دی گئی۔
آئی ٹی کے شعبے میں ڈرون سنٹر آف ایکسیلنس، سائبر سکیورٹی آپریشن سنٹر اور ضم اضلاع میں ڈیجیٹل سٹی کے قیام کی تجاویز زیر غور آئیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے ڈیجیٹل انٹرن شپ پروگرام اور ٹیکنالوجی انکیوبیشن سنٹرز کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی۔
اجلاس میں معدنیات کے شعبے میں جیولوجیکل میپنگ، پلیسر گولڈ ایکسپلوریشن اور کریٹیکل منرلز کے لیے انٹیگریٹڈ جیو سائنس سروے اور ڈیٹا ریپازیٹری قائم کرنے کی تجویز دی گئی، جبکہ ضم اضلاع میں مائنز ریسکیو، سیفٹی اور ٹریننگ سنٹرز کو مضبوط بنانے کے لیے بھی اسکیم تجویز کی گئی۔