Gas Leakage Web ad 1

ایرانی صدر نے کشیدگی کم کرنے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کردی

0

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، اور دشمن پر عدم اعتماد کے ساتھ تعلقات میں ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر عقلی اور سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

Gas Leakage Web ad 2

ادھر روس میں ایرانی سفیر نے روسی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملے ناکام رہے ہیں، اور ایران پہلے سے زیادہ متحد اور پرعزم ہے۔ ان کے مطابق ایران قانونی نظام کے تحت آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو یقینی بناتا ہے، جبکہ روس کی جانب سے ایران کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کی خبریں درست نہیں ہیں۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران موجودہ مذاکرات کو میدانِ جنگ کے تسلسل کے طور پر دیکھتا ہے، تاہم اس کے باوجود امریکا کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اللہ نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت میں پاکستان کا پرچم پوری دنیا میں بلند کردیا: احسن اقبال

الجزیرہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بھی قیمت پر بات چیت کی جائے یا دوسرے فریق کے ہر طریقہ کار کو قبول کر لیا جائے۔ ان کے مطابق ایران نے واضح ریڈ لائنز مقرر کر رکھی ہیں جن کا احترام ضروری ہے، اور ایران کی مذاکراتی حکمتِ عملی مکمل طور پر قومی مفادات اور سیکیورٹی تقاضوں کے تحت ہوتی ہے۔

ایرانی نائب صدر رضا عارف نے کہا ہے کہ تیل کی آزاد مارکیٹ سب کے لیے ہوگی یا کسی کے لیے نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے نتائج پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی مفت فراہم نہیں کی جا سکتی، اور ایرانی تیل کی برآمدات روکتے ہوئے دوسروں سے سیکیورٹی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخاب واضح ہے، یا تو سب کے لیے تیل کی آزاد منڈی ہو، یا پھر سب کو بھاری قیمت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی اور فوجی دباؤ کا مستقل اور یقینی خاتمہ کیا جائے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.