چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارے اعتراضات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، قومی مفاد کے معاملات میں ن لیگ کے ساتھ تعاون کرسکتے ہیں، تاہم ن لیگ کے ساتھ کوآرڈی نیشن کے موڈ میں نہیں ہیں، ہمارے اعتراضات دور کرنے کے لیے ہم سے رابطہ نہیں کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کا الیکشن جتنا غیر متنازع ہوتا اتنا ہی اچھا ہوتا، آزاد کشمیر کے الیکشن کو زیادہ سے زیادہ متنازع بنایا گیا، الیکشن میں وفاقی حکومت کا پورا لشکر وہاں بیٹھا تھا، اگر ایک ساتھ الیکشن ہوتے تو آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہوتی۔
بیرسٹر سیف کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات، پی ٹی آئی اور دیگر امور سےمتعلق گفتگو
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ علاج کسی بھی قیدی کا حق ہوتا ہے، بہتر ہوتا کہ سپریم کورٹ کے حکم دینے کے بجائے حکومت خود قدم اٹھاتی، بانی پی ٹی آئی کو علاج کی ضرورت تھی تو حکومت کو قدم اٹھانا چاہیے تھا، علاج سب کا حق ہے، اس کا خیرمقدم کرتے ہیں، ہماری ان ہاؤس تبدیلی پر توجہ نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے قائمہ کمیٹیوں سے بائیکاٹ کر رکھا ہے، چاہتے ہیں اپوزیشن قائمہ کمیٹیوں کا حصہ بنے، پیپلزپارٹی نے الیکشن ریفارمز میں اہم کردار ادا کیا، اس وقت الیکشن کے عمل پر ہر کسی کو شکایت ہے، اپوزیشن اور حکومت الیکشن ریفارمز پر اتفاق رائے سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نہیں چاہتا کہ اتنے چھوٹے علاقے میں اتنے مراحل میں الیکشن ہوں، آج کا اپوزیشن سے رابطہ اچھا آغاز ہے، اپوزیشن سے رابطے کے بعد رابطوں کا فقدان ختم ہوگیا، پیپلزپارٹی کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ الیکٹورل ریفارمز لائی جاسکیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کہتی ہیں کہ الیکٹورل عمل پر اعتراض ہے، پیپلزپارٹی شکست خوشی سے تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ الیکشن کے سلسلے میں مجھے کارکن کی لاش اٹھانا پڑے، صوبوں کے حوالے سے ہمارے سامنے کوئی تجویز نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی عوام کی رائے کے ساتھ کھڑی ہوگی، ہم زور زبردستی کسی چیز کو نہیں مانے، نہ آگے مانیں گے، پنجاب کے خلاف کسی سازش کا سوچ بھی نہیں سکتا، عوام کی رضامندی اور اتفاق رائے سے جو ہوسکتا ہے ہو، اتفاق رائے کے بغیر سیاسی جماعتیں جو کرنا چاہتی ہیں کریں، روکنا نہیں چاہتا۔