Gas Leakage Web ad 1

زرعی ٹیکنالوجی، وقت کی ضرورت

رضوان عباسی، بیجنگ

0

کہا جاتا ہے کہ وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ جن قوموں نے کسی منزل پر پہنچنا ہو ان کی ایک خاصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ ان کا ہاتھ وقت کی نبض پر ہوتاہے۔ موجودہ اور آنے والے وقت کی کیا ضروریات ہیں اور وہ ہم سے کیا تقاضا کر رہا ہے، یہ اگر پتہ چل جائے اور ایک ٹارگٹڈ پالیسی کی بنیاد پر عمل شروع کر دیا جائے تو ہی کچھ بات بنتی ہے۔ آج کے دور کے تقاضے ہر آنے والے دن کے ساتھ بدل رہے ہیں ، دنیا اپ گریڈ ہو رہی ہے، نت نئی ایجادات ہو رہی ہیں، ہر میدان میں نئی سے نئی ٹیکنالوجی سامنے آ رہی ہے اور اقوام عالم اس ترقیاتی دھارے میں آگے بڑھتی جا رہی ہیں۔ دس سال پرانے طریقوں کو اپناتے ہوئے آج آپ دنیا کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے نکلیں گے تو نہیں کر پائیں گے۔ کامیابی کے لئے آج کی ٹیکنالوجی کو سیکھنا ہو گا اور اس پر عمل کرنا ہو گا، زندگی کے ہر میدان میں۔
زراعت کی ہی مثال لیجئے، تو ہمارا دوست ملک چین نئی سے نئی ٹیکنالوجی لے کر آ رہا ہے، اور اپنی زرعی پیداوار میں ہر سال اضافہ کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی پچیس فیصد آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے اس ملک کے پاس دنیا کا صرف گیارہ فیصد قابل کاشت رقبہ ہے، پھر بھی یہاں کبھی غذائی قلت سامنے نہیں آئی، اور ہر علاقے کی مارکیٹس پھلوں اور سبزیوں کی وافر مقدار سے بھری دکھائی دیتی ہیں۔ اس زرعی ترقی میں ٹیکنالوجی کا کتنا کردار ہے، اس کی ایک چھوٹی سی مثال چین کے علاقے اندرون منگولیا سے لیتے ہیں۔ جدید زرعی مشینری اور ٹیکنالوجی یہاں کے ایک شہر کے ایک سمارٹ گرین ہاؤس میں کلسٹر ٹماٹر کی کاشت کے انداز کو حیرت انگیز طور پر تبدیل کر رہی ہے، جس کی بدولت روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہاں ٹماٹر کی پیداوار پانچ گنا تک بڑھ گئی ہے۔ کلسٹر ٹماٹر ایک بیل کے ساتھ انگور کے گچھوں کی طرح لگتے ہیں۔ تین لاکھ مربع میٹر پر محیط اس گرین ہاؤس میں ہر پودا چالیس گچھوں تک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اس وجہ سے ممکن ہو رہا ہے کہ ٹماٹر کی کاشت اور اس کی دیکھ بھال میں زیادہ تر کام جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ یہاں پر خاص بات یہ ہے کہ یہاں ٹماٹر مٹی کے بغیر اُگتے ہیں۔ اس کاشت کاری کی تکنیک میں ٹماٹروں کے پودوں کی جڑیں ناریل کے ریشے سے بنی کوکو کوئر سبسٹریٹ میں مضبوطی سے نصب کی جاتی ہیں۔ ہر پودے کو صرف چھ لیٹر سبسٹریٹ درکار ہوتا ہے، اور اس کی آبیاری اور نگرانی ایک خودکار نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ایک ریئل ٹائم سینسر نیٹ ورکس کے ذریعے درجہ حرارت، نمی، روشنی کی شدت اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح جیسے اہم ماحولیاتی عوامل کی نگرانی کی جاتی ہے، جو مخصوص نمونہ پودوں سے حاصل کیے جاتے ہیں، تاکہ اس سے پورے فارم میں پودوں کے غذائی توازن کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔سائنسی نظم و نسق اور تکنیکی جدت کے امتزاج کے ذریعے یہ سمارٹ گرین ہاؤس پورے سال ٹماٹروں کی کاشت ممکن بناتا ہے، جہاں فی مربع میٹر تقریباً بائیس کلوگرام ٹماٹر پیدا کیے جا رہے ہیں، جو کہ روایتی گرین ہاؤسز کے مقابلے میں تین سے پانچ گنا زیادہ ہے۔
اس طرح کی جدید زرعی ٹیکنالوجی کے استعمال کی ہزاروں کامیاب کہانیاں چین کے طول و عرض میں دکھائی دیتی ہیں، جن کی بدولت یہ ملک زرعی حوالے سے خود کفیل بھی ہو رہا ہے اور مستقبل کے ساتھ شانہ بشانہ ہو کر آگے بھی بڑھ رہا ہے۔وطن عزیز پاکستان کی بات کی جائے تو یہ بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، اور اس کے اندر زرعی انقلاب پیدا کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنی زرعی زمینوں کی حفاظت کی جائے اور نئے طریقوں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے ، تاکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل ہو سکے اور قومی ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ زرعی برآمدات میں اضافہ کر کے زرمبادلہ بھی حاصل کیا جائے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.