احتجاج نہیں مذاکرات، ریاستی استحکام کیلئے وزیراعظم آزاد کشمیر کا واضح مؤقف
آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں کا دائرہ وسیع، اربوں روپے کے منصوبے منظور
وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ مشکل حالات میں حکومت سنبھالنے کے باوجود عوامی مسائل کے حل، ریاستی استحکام اور ترقیاتی عمل کو تیز کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں۔
ایک خصوصی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری اور پارٹی قیادت نے مشکل سیاسی حالات میں ذمہ داری قبول کی تاکہ ریاست میں جاری بے یقینی اور مایوسی کا خاتمہ کیا جا سکے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ حکومت بنتے ہی عوامی مسائل کے حل اور ایکشن کمیٹی سے کیے گئے معاہدے پر عملدرآمد شروع کیا گیا، جبکہ عوامی رابطہ مہم کے ذریعے لوگوں کا اعتماد بحال کیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ مسائل کا حل احتجاج یا سڑکوں کے بجائے مذاکرات اور سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست میں کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ عوام کے جائز مطالبات کو ہر صورت سنا اور حل کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 20 اپریل کو زراعت کے شعبے میں خود کفالت کے فروغ کے لیے ایک اہم کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، جبکہ مہاجرین کی نشستوں سمیت بعض معاملات پر پیش رفت جاری ہے۔
دوسری جانب، مظفرآباد میں ایک اعلیٰ سطحی ترقیاتی جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت مختص فنڈز کا سو فیصد استعمال یقینی بنایا جائے اور منصوبے مقررہ مدت میں مکمل کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر سے منصوبوں کی لاگت بڑھتی ہے جس کا بوجھ قومی خزانے پر پڑتا ہے۔
اجلاس میں جاگراں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ فیز ٹو، قانون ساز اسمبلی کی نئی عمارت، رتھوعہ ہریام پل اور دیگر اہم منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جبکہ 22 اپریل تک تمام فنڈز کے مکمل استعمال کی ہدایت جاری کی گئی۔
مزید برآں، کابینہ ترقیاتی کمیٹی کے اجلاس میں 34 ارب 85 کروڑ روپے سے زائد لاگت کے 44 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر، آئی ٹی، توانائی اور خوراک کے شعبے شامل ہیں۔
اجلاس میں ہر حلقے کے لیے 30 کلومیٹر سڑکوں کی منظوری، آئی ٹی ایکسیلنس سینٹرز کے قیام، گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر، آٹا ذخیرہ کرنے کے گوداموں اور تعلیمی اداروں میں اضافی کمروں کی تعمیر جیسے اہم فیصلے کیے گئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا ہدف عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور آزاد کشمیر کو ایک پرامن اور ترقی یافتہ ریاست بنانا ہے۔