امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کے وائس چیئرمین ڈاکٹر آصف محمود نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کو "انتہائی تشویش کا حامل ملک” قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ امریکا کی تجارت کو مشروط کیا جائے۔
ڈاکٹر آصف محمود نے کہا کہ بھارت میں گرجا گھر جلائے جا رہے ہیں، مسلمانوں پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھا سکتے، غیر ہندو لڑکیوں سے جبری شادیاں کرائی جا رہی ہیں اور ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
جوہری پلانٹ سے تابکاری کا اخراج ایران اور خلیجی ممالک میں زندگی کا خاتمہ کردیگا: عباس عراقچی
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کی تیرہ ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین نافذ کیے جا چکے ہیں اور لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے سے متعلق الزامات غیر متناسب طور پر اقلیتوں، بشمول مسلمانوں اور مسیحیوں، کو متاثر کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر آصف محمود نے مطالبہ کیا کہ بھارت کو نہ صرف انتہائی تشویش کا حامل ملک قرار دیا جائے بلکہ امریکا کی تجارت بھی مذہب اور عقائد کی آزادی سے متعلق حالات بہتر ہونے پر مشروط کی جائے۔
امریکی پاکستانی ڈاکٹر آصف محمود کے یہ مطالبات سامنے آنے کے بعد بھارت میں انتہا پسند لابی سوشل میڈیا پر غیر معمولی طور پر متحرک ہو گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین ڈاکٹر آصف محمود کا نام اور تصویر لگا کر انتہائی متنازعہ پوسٹس بنا کر امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کے وائس چیئرمین سے منسوب کر رہے ہیں اور اس پر شدید تنقید اور مغلظات کا سلسلہ جاری ہے۔
ایک صارف راجندرا پاٹیک نے امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی اور ڈاکٹر آصف محمود کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت کا اصل دشمن امریکا ہے۔
پراوڈ ہندو نامی صارف نے ڈاکٹر آصف محمود پر جہادی ہونے کا بے بنیاد لیبل لگا دیا۔
بھارت نامی صارف نے یو ایس سی آئی آر ایف کو ٹیگ کرکے اسے نیونازی قرار دیا اور کہا کہ اپنی زبان بند کرو اور توجہ ریڈ انڈینز کی مذہبی آزادی پر مرکوز کرو۔
ڈاکٹر آصف محمود سے متعلق جھوٹے پیغامات کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے اجے بھارتی نامی صارف نے کہا کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے شخص نے کسی طرح یو ایس سی آئی آر ایف میں وائس چیئرمین کی پوزیشن حاصل کر لی ہے اور اب بھارت کو لیکچر دے رہا ہے۔