مشکل میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، کمزور طبقے کو مزید ریلیف دینے کیلئے کوشاں ہیں: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا اور کمزور و متوسط طبقے کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں پاکستان میں موجودہ ایندھن کے ذخائر اور عوامی ریلیف کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایندھن کی بچت کے اقدامات پر عمل درآمد اور سادگی مہم پر پیش رفت کی تفصیلات انٹیلی جنس بیورو کی آڈٹ رپورٹ کے ذریعے بھی پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایندھن کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور آئندہ کے لیے بھی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔
کافی کی مخصوص مقدار ڈپریشن کے خطرات میں کمی کر سکتی ہے: تحقیق
اجلاس میں یہ بھی بریفنگ دی گئی کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ادویات کا وافر ذخیرہ دستیاب ہے اور بڑی گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن پر لیوی میں اضافے سے جیٹ فیول کی قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا گیا، سرکاری اخراجات میں کمی کی گئی، ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو فوری طور پر بند کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کیا گیا اور بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی گئی۔ ڈیجیٹل نظام کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ اقدامات عام آدمی تک پہنچائے جائیں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور بحران کے باوجود بروقت فیصلوں کی بدولت اللہ کے فضل سے ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں آنے دی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھی بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔