Gas Leakage Web ad 1

سانحہ گل پلازہ: ایسوسی ایشن صدر نے سانحے میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات کو ٹھہرا دیا

سانحہ گل پلازہ: ایسوسی ایشن صدر نے سانحے میں ہلاکتوں کا ذمہ دار ریسکیو کے سست انتظامات کو ٹھہرا دیا

0

کراچی: گل پلازہ ایسوسی ایشن کے صدر تنویر پاستا نے سانحہ گل پلازہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ دار ریسکیو اداروں کے سست انتظامات کو قرار دیا ہے۔ اپنے جواب میں انہوں نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی پہلی گاڑی سانحے کے وقت ساڑھے 10 بجے پہنچی اور صرف 20 منٹ کے اندر اس کا پانی ختم ہو گیا۔ مزید دو فائر ٹینڈرز ساڑھے 11 بجے پہنچے، تب تک آگ عمارت کے گراؤنڈ فلور پر تینوں طرف پھیل چکی تھی۔

Gas Leakage Web ad 2

کسٹمز نے سرکاری گاڑی کو نان کسٹم پیڈ کا دعویٰ کرکے ضبط کرلیا: شرجیل میمن

تنویر پاستا نے کہا کہ ریسکیو اہلکاروں کے پاس مناسب آلات، ماسک اور حفاظتی سامان موجود نہیں تھا اور فائر فائٹرز کے پاس فوم یا کیمیکل بھی نہیں تھا۔ ابتدائی ریسکیو کارروائیاں بہت سست تھیں، جس کی وجہ سے کئی افراد کو بروقت نکالا نہیں جا سکا۔ امدادی سرگرمیاں فجر کے بعد متحرک ہوئیں، تب تک آگ شدت اختیار کر چکی تھی اور عمارت میں پھنسے افراد کی مدد مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کی۔

صدر ایسوسی ایشن نے یہ بھی بتایا کہ بجلی بند ہونے کے سبب باقاعدہ اعلانات نہیں کیے جا سکے اور انتظامیہ و دکانداروں نے لوگوں کو باہر نکلنے کی ہدایت کے لیے آوازیں لگائیں۔ گل پلازہ میں تقریباً ساڑھے تین ہزار افراد موجود تھے، جن میں سے بیشتر کو عمارت کے کھلے 16 راستوں سے باہر نکالا گیا۔ دوسری منزل پر ایک شٹر بند پایا گیا، جو ممکنہ طور پر آگ کی شدت سے متاثر ہوا تھا۔

تنویر پاستا نے آگ کی شدت اور مارکیٹ میں موجود آتش گیر سامان کی تفصیلات بھی فراہم کیں، جن میں مصنوعی پھول، کھلونے، گارمنٹس، اسپرے اور چھت پر سات ڈیزل جنریٹر شامل تھے، جن میں سے پانچ فعال تھے۔ جاں بحق 72 افراد میں سے 51 مارکیٹ سے وابستہ تھے۔

جوڈیشل کمیشن کے ذرائع کے مطابق ایسوسی ایشن نے دکانوں کے ٹائٹل یا قانونی حیثیت سے متعلق ریکارڈ فراہم نہیں کیا اور مارکیٹ کی مینٹیننس یا غیر رجسٹرڈ تنظیم کے بائی لاز کے حوالے سے بھی تفصیل نہیں دی گئی۔ تنویر پاستا نے واضح کیا کہ ریسکیو اداروں کے مناسب آلات اور بروقت کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے سانحے میں جانی نقصان زیادہ ہوا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.