پشاور: خیبرپختونخوا میں 40 ارب روپے کے سولر انرجی منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری میں سنگین بے ضابطگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 12 مارچ کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے تحت خیبرپختونخوا انرجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (PEDO) نے گریڈ 17 کے افسر پیر ایمل کو پراجیکٹ ڈائریکٹر مقرر کیا ہے، جبکہ یہ عہدہ گریڈ 19 کے افسر کے لیے مخصوص ہے ۔ یہ تقرری اس وقت سوالات کو جنم دے رہی ہے جب منصوبوں کا PC-I ابھی تک منظور نہیں ہوا ۔
ایران کیخلاف جنگ کےدوران امریکی طیارہ عراق میں گرکرتباہ
ذرائع کے مطابق پیر ایمل کو پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ سے ڈیپوٹیشن پر PEDO بھیجا گیا تھا اور وہ پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان میں خدمات انجام دے رہے تھے ۔ ان کی سپریم کورٹ سے براہ راست PEDO میں ڈیپوٹیشن کو بھی قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تقرری پراجیکٹ امپلیمنٹیشن پالیسی (PIP) 2022 کے چیپٹر 4، پیرا 3 “Procedure to Fill the Post” کی ذیلی شق (xxii) کی واضح خلاف ورزی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ 3 ارب روپے یا اس سے زائد لاگت کے منصوبوں کے لیے پراجیکٹ ڈائریکٹر کا پے اسکیل BS-19 یا اس سے زیادہ ہو گا ۔
اس معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ غیر قانونی کام برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی کام قواعد کے مطابق ہو رہا ہے تو الزام لگانے والوں کو اس کا نتیجہ بھگتنا پڑے گا ۔
دوسری جانب PEDO کے چیف ایگزیکٹیو انوار الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تقرری قواعد کے مطابق کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ ڈگری اور 12 سال کا تجربہ ضروری ہے، جو اس عہدے کے لیے پورا کیا گیا ہے ۔