sui northern 1

کرایہ داری کا اصول طے، سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا

کرایہ داری کا اصول طے، سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا

0
Social Wallet protection 2

سپریم کورٹ نے سندھ ہائیکورٹ کا بے دخلی کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔

sui northern 2

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مالک کے انتقال کے بعد قانونی وارث خود بخود مالک بن جاتے ہیں، اور قانونی وارث کے مالک بن جانے کے بعد نیا کرایہ نامہ ضروری نہیں ہوتا، جبکہ متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانونی ادائیگی نہیں سمجھی جائے گی۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا، سرمایہ کار شرح سود میں کمی کیلیے پُرامید

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ مالک کے انتقال کے بعد بیٹے نے کرایہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا، کرایہ داروں نے مالک کے جنازے میں شرکت کا اعتراف کیا، مگر کرایہ ادا نہیں کیا، اور کرایہ قانونی وارثوں کو دینے کے بجائے متوفی مالک کے نام عدالت میں جمع کرایا جاتا رہا۔

عدالت نے کہا کہ قانونی وارث نے کرایہ ادا نہ کرنے پر کرایہ داروں کے خلاف بے دخلی کی درخواست دائر کی، جبکہ کرایہ داروں کا مؤقف تھا کہ عدالت میں کرایہ جمع کرانے سے وہ بے دخلی سے محفوظ ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ نوٹس ملنے کے بعد متوفی کے نام پر کرایہ جمع کرانا قانوناً ادائیگی تصور نہیں ہوتا، اور قانونی وارث کو کرایہ نہ دینا اور متوفی کے نام پر جمع کرانا جان بوجھ کر ڈیفالٹ ہے، اس لیے جان بوجھ کر ڈیفالٹ کرنے والے کرایہ دار بے دخلی کے ذمہ دار ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ نے کرایہ داروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ دکانیں خالی کریں اور 60 دن کے اندر مالک کے حوالے کریں۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس سنا اور جسٹس شکیل احمد نے چار صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.