اسلام آباد میں سینیٹر فیصل واوڈا نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج سے متعلق خبروں پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر بدمعاشی کی گئی تو گورنر راج لگ سکتا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ سب کی کوشش ہونی چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔
یونان کشتی حادثے میں غفلت ، انسانی اسمگلرز سے روابط ، کئی افسران برطرف
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو چاہیے کہ اپنی حکومت بہتر انداز میں چلائیں، کیونکہ ہائی کورٹ کے آرڈر کے بعد معمولی غلطی بھی ان کی نااہلی کا سبب بن سکتی ہے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے کہ کے پی میں گورنر راج لگے، لیکن اگر غنڈہ گردی کی گئی تو پھر کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے فیصل کریم کنڈی ہی گورنر خیبر پختونخوا رہیں، تاہم اگر کسی اور نام کا انتخاب ہوا تو وہ سیاسی نہیں ہوسکتا۔ فیصل کریم کنڈی کے نام پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ اگر اب بھی کسی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی خواہش ہے تو چاہے دیوار سے سر مارتے رہیں، اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ایک ہی راستہ ہے کہ صدر مملکت اور وزیراعظم کے پاس سیاسی طور پر جائیں۔ ان کے مطابق ہر مسئلے کا حل صدر آصف علی زرداری کے پاس ہے، اور ان سے اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات مسئلہ حل کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا بیان اور ان کا اسمبلی میں آنا اس بات کی نشاندہی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔