دنیا کا پہلا بغیر بازوؤں والا ریسنگ ڈرائیور، وہ کیسے تیز رفتار گاڑی دوڑاتا ہے؟
23 سالہ کلوم اسمتھ سے ملیے، جو دنیا کے پہلے اور اس وقت واحد ریسنگ ڈرائیور ہیں جو گاڑی بغیر بازوؤں کے دوڑاتے ہیں۔
وہ گاڑی اپنے پیروں سے چلاتے ہیں اور ان کا خواب ہے کہ وہ فرانس میں ہونے والی مشہور اسپورٹس کار ریس لی مانز کا حصہ بن سکیں۔
امریکی صدر نے نائن الیون حملوں سے متعلق مزید دستاویزات جاری کرنے کا عندیہ دے دیا
کلوم اسمتھ پیدائشی طور پر ہاتھوں سے محروم ہیں اور ریسنگ ٹریک پر 110 میل فی گھنٹہ کی زیادہ رفتار سے گاڑی دوڑا چکے ہیں۔ یہ سب پیروں کی مدد سے اسٹیئرنگ کرنے میں معاون خصوصی پلیٹ کے ذریعے ممکن ہوا۔
انگلینڈ کی ایک کمپنی میں فنانس اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے والے کلوم اسمتھ نے اپنا پہلا ڈرائیور کانٹریکٹ حاصل کرلیا ہے اور وہ ٹیم برٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔
اب وہ دنیا کے پہلے ایسے کار ریسنگ ڈرائیور ہیں جو دونوں ہاتھوں سے محروم ہونے کے باوجود ریسنگ مقابلوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔
وہ 2 سال کی عمر میں اس وقت ریسنگ کی دنیا سے متاثر ہوئے جب اپنے دادا کے ساتھ بائیک ریسنگ کا ایک مقابلہ دیکھا۔
انہوں نے اپنا پہلا ٹریک ڈے جولائی 2025 میں مکمل کیا۔
اپریل 2026 میں انہوں نے 3.66 کے سرکٹ کو 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مکمل کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ’’میں پہلا ایسا شخص بننے والا ہوں جو بغیر ہاتھوں کے ریسنگ کا حصہ بنے گا۔‘‘
ان کے لیے خصوصی اسٹیئرنگ پلیٹ جم ڈوران ہینڈ کنٹرولز نے ڈیزائن کی تھی۔ ان کا بایاں پیر اسٹیئرنگ پلیٹ کو گھماتا ہے، جبکہ دایاں پیر ایکسیلیٹر اور بریک کو کنٹرول کرتا ہے۔
انہیں توقع ہے کہ وہ بہت جلد مکمل ریسنگ لائسنس حاصل کرسکیں گے۔