پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں سماعت کے لیے منظور کرلی ہیں، جن پر 20 اکتوبر کو سماعت ہوگی۔

خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔ درخواستوں میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سمیت متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے، جبکہ فیڈریشن آف پاکستان، صدرِ مملکت، وزیراعظم اور گورنر خیبرپختونخوا کو بھی فریقین میں شامل کیا گیا ہے۔
درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے خلاف کارروائی کرنا امتیازی سلوک ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی اور جانی نقصانات کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کو جواز بنا کر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
پشاور میں پولیس پوسٹ پر دہشتگردوں کا حملہ، کانسٹیبل شہید
درخواستوں میں یہ مؤقف بھی اپنایا گیا ہے کہ 2007 سے 2015 تک دہشت گردی کے واقعات کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور امن کے قیام کی حمایت کرتی ہے، جبکہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جارہے ہیں۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کو سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
درخواستوں میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 2024 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ گورنر راج کے نفاذ کے لیے آئین کے آرٹیکل 234 میں درج تقاضوں اور طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے، جبکہ ایمرجنسی کے نفاذ کو بھی آرٹیکل 232 اور متعلقہ پارلیمانی تقاضوں کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔ درخواست گزاروں کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کو بھی پی ٹی آئی کے خلاف جواز کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران کسی غیرقانونی اقدام کی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی۔ آئینی اور جمہوری احتجاج کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دے کر منتخب حکومت کو معطل کرنا قابلِ سوال ہے۔ درخواست گزاروں نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیرآئینی، غیرقانونی اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات عوام کے بنیادی حقوق اور جمہوری مینڈیٹ کے منافی ہیں۔
درخواست گزاروں نے پشاور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے اقدامات کو کالعدم اور غیرقانونی قرار دیا جائے، جبکہ درخواستوں کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے اعلامیے کو معطل کیا جائے۔
عدالت نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے منظور کرلی ہیں۔



