فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس تنازعات کے متبادل حل کے طریقہ کار میں اہم ترامیم کردی ہیں۔ رول 231 سی میں کی گئی تبدیلیوں کے تحت تنازعات کے حل کے لیے کمیٹی کی تشکیل، اراکین کی نامزدگی اور ان کے مالی معاوضوں سے متعلق واضح طریقہ کار بھی طے کردیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے نئے نوٹیفکیشن کے مطابق، متاثرہ ٹیکس دہندہ انکم ٹیکس تنازع حل کرنے کے لیے بورڈ کو تحریری درخواست دینے کا پابند ہوگا۔ درخواست میں ٹیکس دہندہ کے نمائندے کا نام، شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر، پتہ اور ای میل درج کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
لندن میں ایون فیلڈ کے باہر 2 نقاب پوش افراد نے نواز شریف کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے
اس طریقہ کار کے تحت ٹیکس دہندہ کا نمائندہ تنازع کے حل کے لیے تین ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کرے گا۔ نوٹیفکیشن میں کمیٹی کے چیئرمین اور اراکین کے معاوضوں کا بھی تعین کردیا گیا ہے۔
پانچ کروڑ روپے تک کے ٹیکس تنازع کی صورت میں کمیٹی کے چیئرمین کو 3 لاکھ روپے جبکہ ہر رکن کو ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا۔ اسی طرح پانچ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے تنازع پر کمیٹی کے چیئرمین کا معاوضہ 5 لاکھ روپے اور ہر رکن کا معاوضہ ڈھائی لاکھ روپے مقرر کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کمیٹی کے اراکین کو گریڈ 21 اور 22 کے سرکاری افسران کے مساوی سفری اخراجات اور یومیہ الاؤنس بھی فراہم کیے جائیں گے۔ ضوابط کے مطابق، کمیٹی کی کارروائی ناکام ہونے یا کمیٹی تحلیل ہونے کی صورت میں اراکین کسی معاوضے کے حق دار نہیں ہوں گے، جبکہ پیشگی ادا کی گئی رقم 15 دن کے اندر واپس کرنا لازمی ہوگا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق، مفادات کا ٹکراؤ سامنے آنے کی صورت میں کمیٹی کا رکن 7 دن کے اندر بورڈ کو آگاہ کرنے کا پابند ہوگا۔ ایسی صورت میں متعلقہ رکن کو پہلے سے وصول کیا گیا معاوضہ بھی واپس کرنا ہوگا۔



