Gas Leakage Web ad 1

لاہور ہائیکورٹ نے اینٹی کرپشن سے انکوائریز، تفتیش کا میکنزم طلب کر لیا

0

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے استفسار کیا کہ آپ مقدمات کی سربراہی کیوں نہیں کرتے؟ کیا آپ زیادہ وقت سی ٹی ڈی کو دے رہے ہیں اور اینٹی کرپشن کی جانب توجہ نہیں دی جا رہی؟ انہوں نے کہا کہ ایک مقدمہ عدالت کے سامنے آیا تو دو دن میں تمام معاملات درست ہوگئے، عدالت ہر کیس میں خود جا کر جائزہ نہیں لے سکتی۔ آپ ایسا کون سا طریقہ کار بنا کر لائے ہیں کہ مستقبل میں ایسے معاملات پیش نہ آئیں؟

Gas Leakage Web ad 2

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے جھنگ میں جعلی رجسٹریوں کے مقدمے میں رجسٹری محرر تاج محمد اور رجسٹرار محبوب کی عبوری درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔ اس موقع پر ڈی جی اینٹی کرپشن سہیل ظفر چٹھہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے سوال کیا کہ وہ مقدمات کی سربراہی کیوں نہیں کرتے اور کیا وہ زیادہ وقت سی ٹی ڈی کو دے رہے ہیں، جس کے باعث اینٹی کرپشن کے معاملات پر توجہ نہیں دی جا رہی؟ انہوں نے کہا کہ ایک مقدمہ عدالت میں آنے کے بعد دو دن میں تمام چیزیں درست ہوگئیں، لیکن عدالت ہر کیس میں خود جا کر معاملات کا جائزہ نہیں لے سکتی۔ انہوں نے استفسار کیا کہ مستقبل میں ایسے معاملات کی روک تھام کے لیے کیا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے؟
ملتان میں گندم خوردبرد کیس میں پاسکو کے افسران سمیت 6 ملزمان گرفتار
ڈی جی اینٹی کرپشن نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت اینٹی کرپشن کا کام بہت بڑھ گیا ہے اور ہر درخواست کو براہِ راست انکوائری میں تبدیل کرنے کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں 16 ہزار 355 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے 9 ہزار سے زائد نمٹا دی گئیں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ ہر درخواست کو انکوائری میں تبدیل کرنے کا حکم کس تاریخ کو جاری کیا گیا تھا؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر کوئی درخواست نمٹا دی جائے تو کیا اس پر دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے؟

عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہاں یہ طریقہ رائج ہے کہ پسندیدہ افسر کا انتظار کیا جاتا ہے اور اس کے آنے پر انکوائری دوبارہ کھول دی جاتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ نیب میں انکوائری ختم کرانے کے لیے باقاعدہ عدالتی اجازت لینا پڑتی ہے۔

ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ انکوائری مکمل کرنے کے لیے چار ماہ کا وقت مقرر کیا گیا ہے اور ایک شکایت کی دو مرتبہ انکوائری کی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے استفسار کیا کہ ان کے وضع کردہ طریقہ کار کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ کیا حکومت کو قانون میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہے؟ انہوں نے لیگل ونگ میں تعیناتی کے طریقہ کار کے بارے میں بھی سوال کیا۔

ڈی جی اینٹی کرپشن نے بتایا کہ لیگل ونگ میں تعیناتی کے لیے ایل ایل بی کی ڈگری اور کم از کم پانچ سال کا تجربہ ضروری ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ریمارکس دیے کہ پانچ سال کے عرصے میں تو وکیل ابھی سیکھ ہی رہا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ متعلقہ افسر کو کس شعبے میں مہارت حاصل ہے اور اس کا تجربہ کتنا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ جھنگ میں چھ جعلی رجسٹریاں درج کرنے کا مقدمہ 2020 میں درج کیا گیا تھا، تاہم چھ سال بعد اینٹی کرپشن نے دوبارہ درخواست گزار کو اس مقدمے میں نامزد کر دیا، حالانکہ درخواست گزار کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست گزار کی عبوری ضمانت کنفرم کی جائے۔ عدالت نے ڈی جی اینٹی کرپشن سے انکوائریوں، تفتیش اور ڈیپوٹیشن پالیسی کے طریقہ کار کی تفصیلات طلب کر لیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.