خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ عوام کے مفاد میں ہے، 60 دن میں نتائج نظر آنا شروع ہو جائیں گے: فیصل واوڈا

اسلام آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ صوبے کے عوام کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی ترانے اور پرچم کی بے حرمتی کرنے والوں کو عوام عبرت کا نشان بنائیں۔
فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ آج جو کچھ دیکھنے میں آرہا ہے، وہ ان باتوں کی نشاندہی ایک سال پہلے ہی کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گے، ان کی نسلیں تباہ کردیں گے۔ ہر صورت میں پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے۔
وزیراعظم کی کسانوں کو منصفانہ معاوضے اور صارفین کو سستی گندم فراہمی کی ہدایت
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں مخصوص ذہنیت کے حامل لوگوں کی 13 سال حکومت رہی اور اس عرصے میں صوبے میں تباہی ہی تباہی ہوئی۔ خیبر پختونخوا عوام کا صوبہ ہے، کسی کی جاگیر نہیں۔ دہشت گردی کے واقعات میں ہمارے جوان شہید ہورہے ہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمارے جوان شہید ہوتے رہیں اور آپ اپنی من مانیاں کرتے پھریں۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے بات بھی نہیں کرنا چاہتے۔ ملک اور صوبہ کسی کے باپ کا نہیں ہے۔ دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے تو سب کو ہمارا ساتھ دینا ہوگا۔ پاک فوج اور پولیس اہلکاروں سمیت ساڑھے سات ہزار افراد جامِ شہادت نوش کرچکے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ فیصل کریم کنڈی سے سوالات کیے جائیں گے اور اب خیبر پختونخوا میں نیا سیٹ اپ آگیا ہے۔ انہوں نے گورنر فیصل کنڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب ناکامی کا کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔ فیلڈ مارشل کو پس منظر سے ہٹ کر کھل کر سپورٹ کیا جائے۔
سینیٹر فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کا مقصد لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے اور ناکامی کی کوئی گنجائش نہیں۔ اگر یہ ناکام ہوئے تو دوسرے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جو شہید کے خلاف بات کرے گا، اب ہم اس کی بھی زبان کھینچ لیں گے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کس نے کہا ہے کہ لیڈر نہیں تو پاکستان نہیں؟ پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی کسی کا نعرہ لگا دے اور لوگ اس کے پیچھے چل پڑیں، ایسا اب نہیں ہوگا۔ قائداعظم کے پاکستان کا حشر نشر کردیا گیا ہے۔ اگر ہم اپنے سے دس گنا بڑے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں تو کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ 60 دن کے اندر نتائج نظر آنا شروع ہوجائیں گے اور عوام اب نعروں کے بجائے کارکردگی کی بنیاد پر ساتھ دیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی کابینہ کے لوگ ان کے ساتھ اسلام آباد میں موجود تھے اور سمگل گاڑیوں کے معاملے پر بھی ان کے درمیان لڑائیاں ہورہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتاری کرانے کے لیے سب خود سامنے آئے اور ان کے درمیان پیسوں کے معاملے پر جھگڑا چل رہا ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پارٹی ختم اور شو ختم ہوگیا ہے، اب پارٹ ون آگیا ہے، جبکہ پارٹ ٹو، تھری اور فور بھی ہیں اور فائیو بھی آسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہت سی چیزیں ہیں جو مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری کو بتائی اور دکھائی جائیں گی۔ پاکستان کی ترقی میں صدر آصف زرداری اور مولانا فضل الرحمان ان کے ساتھ ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان اور صدر آصف زرداری بڑے ہیں اور ان کے ساتھ ذاتی تعلقات بھی ہیں۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ذریعے وہ ری بوٹ یا ری اسٹارٹ کے آپشنز دیکھ رہے ہیں۔ سپہ سالار نے جو کامیابی دلائی، اس کی اور شہدا کی قدر کرنا ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر فیصل کریم کنڈی کام کرکے دکھائیں گے۔



