قطعِ نظر اس بات کے کہ میں ارشاد بھٹی کو صحافی سمجھتا ہوں یا نہیں، یا انہیں کنفرم جانبدار ترجمان تصور کرتا ہوں یا نہیں؛ اور اس بات سے بھی قطعِ نظر کہ کیپٹن صفدر ایک محبِ وطن سیاسی خاندان کے تاحیات داماد ہیں اور میں اس سیاسی جماعت سے ہمدردی رکھتا ہوں یا نہیں، ان تمام ترجیحات، تعصبات اور سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر آپ کو ایک مشورہ دینا چاہوں گا کہ ارشاد بھٹی کا کیپٹن صفدر کے ساتھ پوڈکاسٹ ضرور دیکھیے۔

اس نشست میں بہت سی نئی باتیں سننے کو ملیں گی۔ بعض باتوں سے آپ اتفاق کریں گے اور بعض سے اختلاف، لیکن یہ گفتگو بہرحال سننے، سمجھنے اور غور کرنے کے لائق ہے۔
البتہ اس انٹرویو کا ایک پہلو ایسا ہے جسے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔ ارشاد بھٹی نے جس انداز میں بے تکے، حد سے متجاوز، ذاتی نوعیت کے اور اخلاقی حدود سے آگے بڑھتے ہوئے سوالات کی بوچھاڑ کی، اور جواب میں کیپٹن صفدر نے جس مہارت، حاضر جوابی اور میڈیا ہینڈلنگ کی تکنیک کے ساتھ صورتِ حال کو سنبھالا، وہ اپنی جگہ حیران کن ہے۔
میڈم چیف منسٹر! میڈیا ہینڈلنگ اسے کہتے ہیں!
چند طعنہ زن بیبیوں کو آگے کرکے ابلاغی محاذ فتح نہیں کیے جا سکتے۔ میڈیا ہینڈلنگ مخالف کو چپ کرانے یا اس پر طنز کے تیر برسانے کا نام نہیں، بلکہ ذاتی حملوں کی بوچھاڑ میں بھی اپنا دفاع کرنے، جواب دینے اور گفتگو کا پانسہ پلٹنے کا ہنر ہے۔ کیپٹن صفدر نے اس نشست میں یہی ہنر دکھایا۔
بعض اوقات مخالفین جسے مہرہ سمجھ کر میدان میں اتارتے ہیں، وہی ان کے لیے سبکی کا سامان بن جاتا ہے۔ اس پوڈکاسٹ میں کیپٹن صفدر نے ایسی مات دی کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے اصل ہیرا گھر میں موجود ہے، مگر میڈم چیف منسٹر کی نگاہیں باہر کے کنکروں پر جمی ہوئی ہیں۔
پاکستانی صحافت میں اگر واقعی غیر جانب داری، شائستگی اور پیشہ ورانہ دیانت کا کوئی معیار باقی ہے تو کیپٹن صفدر کے اس انٹرویو کے بعد اس پر ضرور بحث ہونی چاہیے۔ کیونکہ جب سوالات صحافتی تجسس کے بجائے ذاتی عناد کا تاثر دینے لگیں اور انٹرویو تحقیق کے بجائے کردار کشی کا تماشا بننے لگے تو صحافی اور سیاسی بھانڈ کے درمیان فرق واضح کرنے کی ذمہ داری خود صحافت پر عائد ہوتی ہے۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف!
پیارے احباب! ایک سوال آپ سے بھی پوچھنا چاہتا ہوں۔
ارشاد بھٹی نے کیپٹن صفدر کے انٹرویو میں شریف برادران، نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز کے متعلق سخت سوالات کیے۔ بعض سوالات میں ذاتی زندگی، کردار اور پرانے تنازعات تک کو موضوع بنایا گیا۔
بہت خوب! سوال کیجیے، ضرور کیجیے، لیکن پھر یہ اصول سب کے لیے ہونا چاہیے، محض مخالفین کے لیے نہیں۔
کیا کل عمران خان جیل سے باہر آتے ہیں تو ارشاد بھٹی ان سے بھی اسی بے باکی، اسی تیاری اور اسی بے رحمی کے ساتھ سوالات کریں گے؟
کیا کیلیفورنیا کی عدالت کے فیصلے سے متعلق معاملات، سیتا وائٹ کے ساتھ تعلق اور شادی سے متعلق سوالات، ٹیریان وائٹ کی نسبت، کرکٹ کے زمانے میں ان پر عائد کیے جانے والے مالی بے ضابطگیوں کے الزامات، شوکت خانم ہسپتال کی مبینہ یہودی فنڈنگ اور وہاں تجربات کیے جانے کے دعووں، نیز عائلہ ملک سے منسوب مبینہ آڈیو لیک کے بارے میں بھی سوالات اٹھائے جائیں گے؟
اور صرف سوالات ہی نہیں کیے جائیں گے، بلکہ ہر دعوے کی صحت، اس کے پس منظر اور اس کے ثبوتوں کو بھی اسی سنجیدگی سے پرکھا جائے گا جس کا مظاہرہ وہ شریف خاندان کے معاملے میں کرتے دکھائی دیے؟
یا پھر عمران خان کے سامنے پہنچ کر صحافت کا لہجہ بدل جائے گا، سوالات کی دھار کند ہو جائے گی، مائیکروفون کی جرأت دم سادھ لے گی اور وہی بے باکی جو دوسروں کے لیے پیشہ ورانہ اصول سمجھی جاتی ہے، یہاں بے ادبی قرار پائے گی؟
عزیزانِ گرامی! صحافت کسی سیاسی جماعت کی ذاتی جاگیر نہیں، نہ کسی لیڈر کی مدح سرائی کا ٹھیکا ہے اور نہ ہی کسی مخالف کی کردار کشی کا لائسنس۔
اگر شریف خاندان سے سوال کرنا صحافت ہے تو عمران خان سے سوال کرنا بھی صحافت ہے۔ اگر ایک خاندان کی نجی زندگی سے متعلق متنازع معاملات پر سوال اٹھانا آزادیِ صحافت ہے تو دوسرے سیاسی رہنما کے متعلق قابلِ تحقیق معاملات پر سوال اٹھانا بھی اسی آزادی کا حصہ ہے۔ البتہ ہر سوال کے ساتھ ثبوت، سیاق و سباق، قانونی احتیاط اور جواب سننے کا حوصلہ بھی لازم ہے۔
ورنہ یہ صحافت نہیں، بلکہ سیاسی پسند و ناپسند کی دکان داری ہے، جہاں مخالف کے لیے سوالات کا تازیانہ اور اپنے پسندیدہ رہنما کے لیے تعظیم کا قالین بچھایا جاتا ہے۔
اب فیصلہ آپ کیجیے!
کیا آپ بھی عمران خان کے ساتھ ارشاد بھٹی کا ایسا ہی بے لاگ، بے باک اور سخت سوالات پر مبنی انٹرویو دیکھنا چاہتے ہیں؟
کیا صحافت کا ترازو واقعی سب کے لیے ایک ہونا چاہیے، یا پاکستان میں سوال پوچھنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ سامنے بیٹھا شخص اپنا ہے یا پرایا؟
بہرحال، خان صاحب ایک محبِ وطن پاکستانی ہیں، ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال ایک بہت بڑا اور اچھا منصوبہ ہے۔ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں، ان کے لیے میرے دل میں احترام ہے، میں ان کی صحت و عافیت کے لیے دعاگو ہوں اور ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ ان کی نجی زندگی یا ماضی کی رنگینیوں کو سرِعام زیرِ بحث لایا جائے۔
اسی طرح یہ بھی گوارا نہیں کہ کسی دوسری سیاسی جماعت یا اس کے رہنماؤں کی نجی زندگی کو پوڈکاسٹ کا موضوع بنا کر صحافت کے نام پر تماشا سجایا جائے۔ اس قبیح روایت کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔
بالخصوص ارشاد بھٹی کو صحافتی آداب، اخلاقی حدود اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا سبق ازبر کروایا جانا چاہیے۔



