Gas Leakage Web ad 1

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت داخلی انتشار پر صدر کسی صوبے میں ایمرجنسی کا اعلان کرسکتے ہیں

0

وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ، کل کابینہ سے منظوری کا امکان

Gas Leakage Web ad 2

وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی کل وفاقی کابینہ سے منظوری لیے جانے کا امکان ہے۔

آئین کے آرٹیکل 232 کے مطابق جنگ اور داخلی انتشار کی صورت میں صدر مملکت کسی صوبے میں ایمرجنسی کا اعلان کرسکتے ہیں۔ صدر کے اعلان کے بعد دس روز کے اندر اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
سی سی ڈی طرز پر یونٹ کے قیام کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں: اسلام آباد پولیس
ایمرجنسی کے دوران پارلیمنٹ کو کسی صوبے یا اس کے کسی حصے کے لیے قانون سازی کا اختیار حاصل ہوگا۔ آرٹیکل 232 کے تحت وفاق کا انتظامی اختیار اس حد تک وسیع ہوجائے گا کہ وہ صوبے کو ہدایات دے سکے گا کہ صوبائی انتظامی اختیارات کس طریقے سے استعمال کیے جائیں۔

آرٹیکل 232 کے تحت وفاقی حکومت ایک حکم کے ذریعے صوبائی حکومت کے تمام یا بعض فرائض خود سنبھال سکتی ہے۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے فرائض گورنر کو سونپنے کی ہدایت بھی کرسکتی ہے، جبکہ صوبے کے کسی ادارے یا اتھارٹی سے متعلق آئینی دفعات کو معطل کرنے کا اختیار بھی وفاقی حکومت کے پاس ہوگا۔

آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت وفاق کو ہائی کورٹ کا کوئی اختیار سنبھالنے کا اختیار حاصل نہیں ہوگا اور نہ ہی صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیار کو محدود کیا جاسکے گا۔ تاہم صوبائی اسمبلی کے بنائے گئے قوانین پر پارلیمنٹ کے قوانین کو فوقیت حاصل ہوگی، جبکہ ان سے متصادم صوبائی قوانین غیر مؤثر ہوجائیں گے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.