مجوزہ ٹیلی کام مسابقتی قواعد 2026 میں پی ٹی اے کے اختیارات بڑھانے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔

پی ٹی اے نے مجوزہ ترامیم کا مسودہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کو پیش کردیا، جس میں مرجر اور ایکوزیشن سے متعلق فیصلوں پر کسی بھی وقت نظرثانی کا اختیار مانگا گیا ہے۔
وزارت آئی ٹی کی جانب سے پی ٹی اے کو فیصلوں پر ایک سال کے اندر نظرثانی کی تجویز دی گئی تھی، تاہم پی ٹی اے نے ایک سال کی مدت ختم کرنے اور مارکیٹ کی صورتحال تبدیل ہونے پر کسی بھی وقت مرجر یا ایکوزیشن کے فیصلے پر نظرثانی کا اختیار مانگ لیا ہے۔
آئی ایم ایف کا پاکستان سے مالیاتی استحکام لانے اور بڑھتے ہوئے گردشی قرضے کم کرنے کا مطالبہ
مجوزہ قواعد کے تحت 25 فیصد سے زائد مارکیٹ شیئر رکھنے والے آپریٹرز کو اہم مارکیٹ پوزیشن یعنی ایس ایم پی کا درجہ حاصل ہوگا، جبکہ 25 فیصد سے کم مارکیٹ شیئر رکھنے والی کمپنیوں کو بھی ایس ایم پی قرار دینے کا اختیار پی ٹی اے کے پاس ہوگا۔
ایس ایم پی کمپنیوں پر سخت ریگولیٹری پابندیاں عائد کرنے، ٹیرف اور قیمتوں کے تعین کی نگرانی کرنے اور اجارہ داری یا حریفوں کو نقصان پہنچانے والی پرائسنگ کی روک تھام کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ٹی اے اسپیکٹرم، مالی و تکنیکی وسائل اور انفرااسٹرکچر پر کمپنیوں کے کنٹرول کا بھی جائزہ لے گا۔ مجوزہ قواعد منظوری کے بعد مسابقتی کمیشن کے دائرہ اختیار کو متاثر کیے بغیر نافذ ہوں گے۔



