Gas Leakage Web ad 1

سپریم کورٹ کا قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم

0

سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ اندراج مقدمہ میں تاخیر کے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اندراج میں تاخیر پر ٹرائل کورٹ نوٹس لے کر قانونی کارروائی کرسکتی ہے، جبکہ تاخیر ثابت ہونے کی صورت میں معاملہ محکمانہ کارروائی کے لیے آئی جی کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اندراج مقدمہ میں تاخیر کو محض بے قاعدگی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو 2025ء سے اب تک کے قتل کے مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایسے مقدمات کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے جن میں مقدمہ درج کرنے میں 24 گھنٹے سے زائد تاخیر ہوئی۔ عدالت نے ضلع وار تفصیلات 2 ماہ کے اندر فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
حکومت نے مذاکرات کیلئے ایک بار پھر جماعت اسلامی سے رابطہ کر لیا
فیصلے میں کہا گیا کہ آج کے بعد محمد بخش کیس کے احکامات پر عمل نہ کرنے کی صورت میں توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ مقدمہ درج کرنے میں تاخیر پر آئی جی، ایس پی انویسٹیگیشن اور ڈی پی او کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کا سندھی ترجمہ کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا۔ مجرم علی رضا پر 2012ء میں دادو میں ایک شخص کے قتل کا الزام تھا۔ قتل کے واقعے کا علم ہونے کے باوجود پولیس نے تاخیر سے مقدمہ درج کیا تھا۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جسے سندھ ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.