اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے آریا فارمولا اجلاس میں پاکستان نے حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہازوں پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی اور محفوظ بحری آمدورفت کا مطالبہ کیا۔ پاکستانی مستقل مندوب عاصم افتخار نے سعودی عرب کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ باب المندب پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں نے بہت کچھ واضح کردیا ہے۔ سمندری بحران عالمی امن و استحکام، توانائی اور غذائی سلامتی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثیوں کے حملے سمندری سلامتی اور خطے کے امن و ترقی کے لیے خطرہ ہیں، جبکہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات سمندری سلامتی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
امریکی صدر نے تین بڑے میڈیا اداروں پر وائٹ ہاؤس میں کوریج پر پابندی عائد کردی
پاکستانی مستقل مندوب نے تجارتی جہازرانی میں خلل اور حملوں پر پاکستان کی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز عالمی بحری تجارت کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور یہاں رکاوٹوں سے عالمی توانائی اور کھاد کی فراہمی پر نمایاں اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
عاصم افتخار نے کہا کہ پاکستان کا اصولی مؤقف ہے کہ عالمی جہاز رانی کو تنازعات اور کشیدگی کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے۔ پاکستان نے کشیدگی میں کمی اور وسیع تر علاقائی استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد تمام زیر التوا مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھے گا اور بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانے کے لیے بھی کام جاری رکھا جائے گا۔