وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے پارٹی کے مرحوم کارکن اشتیاق احمد کے گھر جاکر اہلخانہ سے تعزیت کی، جہاں شکوہ کرنے پر ان کی سکیورٹی نے ایک فیملی ممبر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے لاہور میں پی ٹی آئی کے مرحوم کارکن اشتیاق احمد کے گھر پہنچ کر اہلخانہ سے تعزیت کی، اس دوران اہلخانہ نے غم و غصے کا اظہار کیا۔
میری صرف ایک اہلیہ ہیں: عثمان پیرزادہ کا سوشل میڈیا پر وائرل خبروں پر ردعمل
اہلخانہ کا کہنا تھا کہ اشتیاق احمد 17 روز تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جان کی بازی ہار گئے، لیکن کسی نے ان کی خبر تک نہیں لی۔ اہلخانہ کے شکوے کے دوران سہیل آفریدی کے گارڈ نے اشتیاق احمد کے ایک فیملی ممبر کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنا دیا۔
وزیراعلیٰ کے ساتھ ڈیوٹی پر تعینات پولیس کے ٹی ایس آئی حازق بن ارشد نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ وہ وی وی آئی پی سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ مصری شاہ میں تعینات تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا متوفی اشتیاق احمد کے گھر تعزیت کے لیے آئے تھے، جہاں اہلخانہ نے سیاسی گفتگو سے منع کیا تو ان کی سکیورٹی نے بدمزگی شروع کردی۔
دوسری جانب وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کے حامی یوٹیوبرز نے اشتیاق احمد کی موت کے واقعے کو غلط رنگ دیا، جبکہ مرحوم کے بیٹے کا بیان بھی آن ریکارڈ ہے کہ یہ ایک حادثہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشوں پر سیاست بانی پی ٹی آئی اور ان کی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے۔