Gas Leakage Web ad 1

مکہ دفاعی معاہدہ، مزید ممالک کی شمولیت کا فیصلہ طے شدہ مینڈیٹ کے مطابق ہو گا: خواجہ آصف

0

وزیر دفاع خواجہ آصف نے مکہ معاہدے پر پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سیکرٹریٹ کے قیام پر سیر حاصل بحث ہوئی، جس دوران مجوزہ اتحاد کے سیکرٹریٹ کے اسٹرکچر اور مینڈیٹ پر غور کیا گیا۔

Gas Leakage Web ad 2

خواجہ آصف نے کہا کہ اجلاس میں سیکرٹری جنرل اور سیکرٹریٹ میں مختلف عہدوں اور شعبوں کے قیام پر غور کیا گیا، جبکہ اتحاد میں نئے ممالک کی شمولیت کے لیے شرائط، طریقہ کار اور ٹائم فریم بھی زیر بحث آئے۔
سندھ کابینہ نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹیکس میں رعایت کا پیکج منظور کرلیا
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے اتحاد کے اسٹرکچر سے متعلق ڈرافٹ کو خاصی پذیرائی ملی ہے، جبکہ سیکرٹریٹ اور تنظیمی ڈھانچے کی حتمی شکل دو سے تین ہفتوں میں تیار ہوجائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے اوائل میں تینوں ممالک دوبارہ اجلاس کریں گے، جس دوران کام کو حتمی شکل دی جائے گی، تاہم نئے ممالک کی اتحاد میں شمولیت کی شرائط و ضوابط ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ نئے ممالک کی شمولیت فوری ہوگی یا کسی عبوری مدت کے بعد، اس حوالے سے فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ میں اتحاد کا بنیادی اسٹرکچر عملی شکل اختیار کرجائے گا۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ابھی تمام معاملات حتمی نہیں ہوئے، تاہم بنیادی اصول اور اسٹرکچر طے کرلیے گئے ہیں۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد خطے میں مضبوط دفاعی تعاون کی بنیاد بن سکتا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق اتحاد کی شروعات اللہ کے گھر سے ہوئی، دعا ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈالے۔ اتحاد کا مقصد مشترکہ خطرات اور چیلنجز کا مل کر سامنا کرنا ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ کیا اس اتحاد سے ہمارے دشمن بھارت کی نیندیں حرام ہوگئی ہوں گی؟ خواجہ آصف نے جواب دیا کہ عالم اسلام کے تمام دشمنوں میں بھارت بھی شامل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تینوں ممالک کا اتحاد کسی ملک کے خلاف جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے اور یہ اتحاد کسی کے ساتھ لڑائی یا جارحیت کے لیے نہیں بنایا گیا بلکہ ہمارا مقصد دفاعی معاہدہ ہے، کسی کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ تینوں رکن ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ ہوا تو تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ دفاعی اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کی باہمی حفاظت اور دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

وزیر دفاع کے مطابق مستقبل میں مزید اسلامی ممالک کی شمولیت کے حوالے سے طریقہ کار طے کیا جائے گا، فی الحال پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ اتحاد کے بنیادی تین رکن ممالک ہیں۔

اتحاد میں مزید ممالک کی شمولیت کا فیصلہ طے شدہ مینڈیٹ اور شرائط کے مطابق ہوگا۔ اتحاد کا کوئی جارحانہ ڈیزائن نہیں بلکہ یہ 100 فیصد دفاعی معاہدہ ہے۔ اتحاد کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، باہمی تحفظ اور مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنانا ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.