Gas Leakage Web ad 1

‘سانحہ گُل پلازہ اداروں کی مشترکہ غفلت اور ناکام نظام کا شاخسانہ ہے’: عدالتی کمیشن کی رپورٹ

0

### گل پلازہ سانحہ: عدالتی کمیشن نے ادارہ جاتی ناکامی قرار دے دیا

Gas Leakage Web ad 2

کراچی کے گل پلازہ میں ہولناک آتشزدگی کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن نے سانحے کو **متعدد سرکاری اداروں کی مشترکہ غفلت اور نظام کی ناکامی** قرار دیا ہے۔ آگ میں کم از کم 73 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم کمیشن نے رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کردی۔ رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کو خطرناک عمارت قرار دیے جانے اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزیوں کے باوجود تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں۔

منظور شدہ نقشے کے مطابق عمارت میں 1102 دکانوں کی گنجائش تھی، تاہم وہاں **1153 دکانیں** قائم تھیں، جبکہ متعدد دکانوں میں آتش گیر سامان بھی موجود تھا۔

رپورٹ میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، فائر بریگیڈ، سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ سمیت اداروں کو مؤثر نگرانی اور حفاظتی اقدامات میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

کمیشن کے مطابق آگ لگنے کے بعد بھی امدادی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔ فائر فائٹنگ آپریشن مؤثر انداز میں شروع ہونے میں تقریباً **35 سے 40 منٹ** لگے، جبکہ پانی کی قلت اور دیگر مسائل نے کارروائی متاثر کی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ متاثرین کی ہلاکتیں صرف آگ سے نہیں ہوئیں بلکہ **اندھیرا، بند راستے، کھڑکیوں پر جالیاں، غیر فعال حفاظتی نظام اور ریسکیو میں تاخیر** بھی اموات کی اہم وجوہات بنیں۔

کمیشن نے قرار دیا کہ ادارے خطرے سے پہلے ہی آگاہ تھے، مگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے۔ حکومت نے گل پلازہ کے باقی ماندہ ڈھانچے کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے اور سفارشات پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.