صوبائی حکومت نے ستمبر سے ای وی ٹیکسی سروس شروع کرنے، اکتوبر میں کراچی کے لیے 50 نئی ڈبل ڈیکر بسیں لانے اور رواں سال کے اختتام سے مرحلہ وار مزید ایک ہزار الیکٹرک بسیں پبلک ٹرانسپورٹ نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
یہ فیصلے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ کے اہم اجلاس میں کیے گئے، جس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی، پراجیکٹ ڈائریکٹر یلو لائن کمال دایو اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف
اجلاس میں کراچی کی یونیورسٹی روڈ پر مکسڈ ٹریفک لائن کا ایک حصہ ستمبر میں عوام کے لیے کھولنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس سے ٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ظاہر کی گئی۔
اجلاس کے دوران مختلف ٹرانسپورٹ منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جبکہ شرجیل انعام میمن نے ہدایت کی کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے تمام ڈیپوز کی تعمیر مقررہ ٹائم لائن کے مطابق جلد از جلد مکمل کی جائے۔
اجلاس میں لاڑکانہ تا قمبر اور قمبر تا شہدادکوٹ پیپلز بس سروس کے نئے روٹس جلد فعال کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت کی ای وی ٹیکسی سروس کا آغاز ستمبر میں کیا جائے گا، جبکہ مرحلہ وار ایک ہزار مزید الیکٹرک بسیں بھی پبلک ٹرانسپورٹ نظام کا حصہ بنیں گی۔
انہوں نے کہا کہ 50 نئی ڈبل ڈیکر بسیں اکتوبر میں کراچی پہنچ جائیں گی، جس سے شہریوں کو جدید، معیاری اور آرام دہ سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
سینئر صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ سندھ حکومت شہریوں کو جدید، محفوظ، ماحول دوست اور قابل اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔