کراچی: ایم کیو ایم پاکستان میں دو گروپوں کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان رابطوں اور بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں رہنماؤں کے اجلاس کے بعد اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے، جس دوران ایم پی اے اعجاز الحق، رہنما ذاکر اور دوسرے گروپ کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔
پاکستان سمیت 4 ممالک کے عمرہ زائرین کیلئے لازمی فوڈ واؤچر متعارف
ایم کیو ایم کے رہنما امین الحق نے دعویٰ کیا کہ دوسرے گروپ کی جانب سے شدید ہوائی فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں ان کا ایک کارکن زخمی ہوا، جبکہ پتھراؤ کے باعث بھی متعدد کارکن زخمی ہوئے۔
تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق دونوں گروپوں کے رہنماؤں کے درمیان معاملات کو حل کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھ رہا ہے۔
ایم کیو ایم ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران دونوں گروپوں کی مشترکہ پریس کانفرنس متوقع ہے، جس میں اختلافات کے حوالے سے پیش رفت اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔