ڈی جی آئی ایس پی آر: مؤثر گورننس کے لیے انتظامی اصلاحات پر آئینی طریقہ کار سے غور ہونا چاہیے
انسداد دہشت گردی اور سیکیورٹی سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق بیان پر سوال کیا، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے، میں اس پر رائے زنی نہیں کرنا چاہتا، تاہم اتنا ضرور کہوں گا کہ پاکستان کے استحکام اور سیکیورٹی کے لیے اچھی حکمرانی ناگزیر ہے۔
عطا تارڑ نے سینئر اداکار محمد احمد کے ساتھ جونیئر آرٹسٹ کے سلوک کو انتہائی افسوسناک قرار دیدیا
انہوں نے کہا کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی تقریباً 7 سے 8 کروڑ تھی، جو اب بڑھ کر تقریباً 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ انتظامی ڈھانچہ اب بھی چار صوبوں پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق بدلتے ہوئے حالات اور بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے تقاضوں کے مطابق سوچنے کی ضرورت ہے۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ مؤثر گورننس کے بغیر قومی مسائل کا حل ممکن نہیں، اگر بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو اس پر غور کیا جانا چاہیے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق مسائل کے حل کے لیے عوام کی رائے کو اہمیت دی جانی چاہیے۔ اگر عوام موجودہ نظامِ حکمرانی سے مطمئن ہیں تو یہ ایک مثبت بات ہے، لیکن اگر اطمینان نہیں تو پھر آئینی طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کی پہلی اکنامک سمٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا تھا کہ جس نظام کے اندر ہم رہ رہے ہیں وہ عملی طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب جمہوریت چاہتے ہیں اور جمہوریت کے حامی ہیں، تاہم مسائل کے حل کے لیے نظام میں اصلاحات ضروری ہیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا تھا کہ سیاسی نظام چلانے والے بھی اسی ہال میں موجود ہیں اور اسے فنڈنگ کرنے والے بھی، ہر ایک کی اپنی مجبوری ہے، لیکن جس دن سب اصلاحات پر متفق ہو جائیں گے، نظام بہتر ہو جائے گا، کیونکہ موجودہ نظام میں ہر چیز خراب نہیں ہے۔