فخر زمان کا کہنا ہے کہ قومی ٹیم میں بہتری کے لیے کیمپس کا انعقاد فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے اور آئندہ قوم کو بہتر کرکٹ کھیلتے دکھائی دیں گے۔
نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فخر زمان نے کہا کہ گزشتہ دو تین ماہ سے کیمپ جاری ہے جس سے ہر کھلاڑی کو فائدہ ہو رہا ہے، کھلاڑیوں کو اپنی غلطیاں درست کرنے کا موقع ملا جبکہ کئی ایسے کرکٹرز بھی سامنے آئے جو پہلے مینجمنٹ کی نظروں میں نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ جب ٹیم جیت نہیں پاتی تو تنقید ہوتی ہے، لیکن کامیابی کے بعد چھوٹی موٹی غلطیوں پر پردہ پڑ جاتا ہے۔ ہمارے پاس فاسٹ بولنگ کے شعبے میں اب بھی اچھا ٹیلنٹ موجود ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں قومی ٹیم بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
ہنگو چیک پوسٹ پر دہشت گرد حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی کوہاٹ میں درج
فخر زمان نے کہا کہ وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں اور بیٹنگ بھی شروع کر دی ہے۔ اچھا یا برا کھیلنا کھلاڑی کی ذمہ داری ہوتی ہے، اس کا الزام بورڈ یا مینجمنٹ پر نہیں ڈالا جا سکتا۔ ہر کھلاڑی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔
قومی کرکٹر نے کہا کہ کئی کھلاڑی پی ایس ایل کے ایک یا دو میچز کھیل کر قومی ٹیم میں آ جاتے ہیں، تاہم کسی بھی کرکٹر کو بہت جلد انٹرنیشنل کرکٹ میں نہیں لانا چاہیے کیونکہ لیگ کرکٹ اور بین الاقوامی کرکٹ میں بہت فرق ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کے ساتھ سینئر کھلاڑیوں کا ٹیم میں ہونا بھی ضروری ہے، صرف نوجوانوں پر انحصار کرنا درست نہیں ہوگا۔ پاکستان کے لیے کھیلنا سب سے بڑی حوصلہ افزائی ہے، جبکہ انٹرنیشنل اور ڈومیسٹک کرکٹ کے فرق کو کم کرنے کے لیے کیمپس بہت اہم ہیں۔
فخر زمان نے کہا کہ ان کی بیٹنگ پوزیشن کے حوالے سے مینجمنٹ سے بات ہوئی ہے، ہر کھلاڑی اپنی پسندیدہ پوزیشن پر کھیلنا چاہتا ہے لیکن ٹیم کی ضرورت کے مطابق کھیلنے کے لیے تیار ہوں۔ 2027 کا ورلڈ کپ ان کے ذہن میں ہے اور وہ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ 2026 کے اختتام سے پہلے قومی ٹیم شائقین کو کامیابیوں کے تحفے دے گی۔