Gas Leakage Web ad 1

99 فیصد بل ادائیگی کے باوجود اسلام آباد، راولپنڈی اور گردونواح غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی لپیٹ میں، آئیسکو کی کارکردگی پر سنگین سوالات

0

اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال کے لاکھوں شہری ان دنوں شدید گرمی کے موسم میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور بجلی کی مسلسل بندش کا سامنا کر رہے ہیں۔ صورتحال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بجلی کے بلوں کی وصولی کی شرح ملک کے دیگر کئی علاقوں کے مقابلے میں بہت بہتر سمجھی جاتی ہے۔ متعدد فیڈرز پر ریکوری کی شرح 99 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہے، اس کے باوجود صارفین کئی کئی گھنٹے بجلی سے محروم رہتے ہیں۔ ایسے میں عوام کا یہ سوال بالکل بجا ہے کہ اگر وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں تو پھر انہیں کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟

Gas Leakage Web ad 2

اچھی صحت کیلئےکھانےکا مثالی وقت کونسا ہوتا ہے؟

اسلام آباد پاکستان کا وفاقی دارالحکومت ہے جہاں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ، سفارت خانے، حساس قومی ادارے، سرکاری دفاتر اور لاکھوں شہری آباد ہیں۔ اسی طرح راولپنڈی، اٹک، جہلم اور چکوال ملک کے اہم شہری اور صنعتی مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران جب درجہ حرارت 48 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے اور ایسے وقت میں بجلی بار بار بند ہو تو یہ محض ایک تکنیکی خرابی نہیں رہتی بلکہ ایک انسانی بحران کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ گھروں میں پانی کی فراہمی متاثر ہوتی ہے، پنکھے اور ایئر کنڈیشنرز بند ہو جاتے ہیں، بیمار افراد کے طبی آلات کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، چھوٹے کاروبار متاثر ہوتے ہیں اور طلبہ سمیت لاکھوں افراد معمول کی زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔

سرکاری سطح پر بجلی کی بندش کی وجوہات میں سالانہ مینٹیننس، لائنوں کی مرمت، تعمیراتی کام، فالٹس اور لوڈ مینجمنٹ کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوامی سطح پر یہ وضاحتیں اب تشنگی پیدا کر رہی ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق آئیسکو ریجن میں بجلی کی مجموعی طلب تقریباً 2327 میگاواٹ کے قریب ہے، جبکہ ماضی میں خود ادارے کی جانب سے یہ بتایا جاتا رہا ہے کہ نیشنل گرڈ سے آئیسکو کو اوسطاً 2050 میگاواٹ بجلی فراہم کی جاتی ہے اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے تقریباً 1200 میگاواٹ اضافی بجلی سسٹم میں شامل ہوتی ہے۔ اگر مجموعی طور پر بجلی کی دستیاب گنجائش 3000 میگاواٹ سے زیادہ بنتی ہے تو پھر چند سو میگاواٹ کے شارٹ فال کی وجہ سے پورے ریجن کو مسلسل لوڈشیڈنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟

یہ بھی حقیقت ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے حاصل ہونے والی بجلی مکمل طور پر قابلِ بھروسہ متبادل نہیں کیونکہ شمسی توانائی رات کے اوقات یا خراب موسم میں کم ہو جاتی ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ برقرار رہتا ہے کہ اگر سالہا سال سے ادارہ کپیسٹی پیمنٹس کی مد میں بھاری رقوم ادا کر رہا ہے اور بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے تو پھر طلب کے بڑھنے پر سسٹم اتنی جلدی کیوں دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے؟

توانائی کے ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف بجلی پیدا کرنے کا نہیں بلکہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نظام میں بھی سنگین خامیاں موجود ہیں۔ گرڈ اسٹیشنز کی استعداد، پرانے فیڈرز، کمزور انفراسٹرکچر اور بروقت منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے کئی مرتبہ بجلی دستیاب ہونے کے باوجود صارفین تک نہیں پہنچ پاتی۔ اگر ہر گرمی کی شدت کے ساتھ یہی بحران دوبارہ جنم لیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ بنیادی مسائل ابھی تک حل نہیں کیے گئے۔

صورتحال کو مزید خراب کرنے والی بات یہ ہے کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے دوران صارفین کو بروقت اور درست معلومات بھی فراہم نہیں کی جاتیں۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں شکایات سامنے آ چکی ہیں کہ ہیلپ لائن مسلسل مصروف رہتی ہے، شکایات کا بروقت ازالہ نہیں ہوتا اور صارفین کو محض رسمی پیغامات دے کر مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سے ادارے اور عوام کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ عوام صرف بجلی نہیں خریدتے بلکہ وہ اپنے بلوں اور ٹیکسوں کے ذریعے ایک ایسے نظام کو برقرار رکھتے ہیں جس سے انہیں معیاری، محفوظ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی توقع ہوتی ہے۔ اگر بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کیے جا رہے ہیں اور ریکوری کی شرح تقریباً سو فیصد ہے تو پھر صارفین کو بار بار لوڈشیڈنگ اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کیوں کرنا پڑ رہا ہے؟

اس بحران سے نکلنے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے آئیسکو اور وزارت توانائی کو طلب اور رسد سے متعلق مکمل اور شفاف اعداد و شمار عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں۔ دوسرا، غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کی وجوہات سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ تیسرا، گرڈ اسٹیشنز اور تقسیم کے نظام کی استعداد بڑھانے کے لیے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ چوتھا، صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام قائم کیا جائے۔ اور آخر میں، نیپرا اور متعلقہ اداروں کو بجلی کی فراہمی کے پورے نظام کا آزادانہ آڈٹ کر کے عوام کو بتایا جائے کہ ماضی میں خرچ ہونے والے وسائل سے کیا نتائج حاصل ہوئے اور بار بار ایک ہی بحران کیوں پیدا ہو رہا ہے۔

آج اسلام آباد سے لے کر جہلم اور چکوال تک ایک ہی سوال سنائی دے رہا ہے: اگر عوام اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں تو کیا بجلی فراہم کرنے والے ادارے بھی اپنی ذمہ داری اسی معیار کے ساتھ نبھا رہے ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اس مسلسل بحران کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ عوام اب صرف وضاحت نہیں بلکہ عملی اقدامات اور جوابدہی چاہتے ہیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.