Gas Leakage Web ad 1

پنجاب میں 9 لاکھ کسان کارڈ جاری، 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم

0

پنجاب حکومت کے کسان دوست اقدامات کے نتیجے میں صوبے بھر میں کسان کارڈ پروگرام تیزی سے اپنے اہداف کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں بتایا گیا کہ اب تک پنجاب میں 9 لاکھ کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 50 ہزار کاشتکاروں کو بھی پروگرام میں شامل کر لیا گیا ہے اور یوں کسان کارڈ ہولڈرز کی مجموعی تعداد 10 لاکھ کے ہدف کے قریب پہنچ چکی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ کسانوں کو اب تک 360 ارب روپے کے بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ کسان کارڈ پروگرام کے تحت قرضوں کی واپسی کی شرح 99 فیصد رہی، جسے حکام نے پروگرام کی کامیابی اور کاشتکاروں کے اعتماد کا واضح ثبوت قرار دیا۔ بریفنگ کے مطابق جاری کردہ قرضوں کا تقریباً 80 فیصد حصہ کسانوں نے کھادوں کی خریداری پر خرچ کیا، جس سے زرعی پیداوار میں اضافے اور فصلوں کی بہتر دیکھ بھال میں مدد ملی۔

الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد میں اضافہ

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ خریف سیزن کے لیے مجموعی طور پر 116 ارب روپے کے قرضے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے اب تک 62 ارب روپے استعمال ہو چکے ہیں۔ خریف قرضوں کے استعمال کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 75 فیصد رقم خالصتاً کھادوں کی خریداری پر خرچ کی گئی، جس سے زرعی شعبے میں پیداواری صلاحیت بڑھانے کی حکومتی حکمت عملی کو تقویت ملی۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ بین الاقوامی آڈٹ فرم KPMG کسان کارڈ پروگرام کے معاشی اور سماجی اثرات سے متعلق اپنی جامع رپورٹ 30 ستمبر تک پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت اس پروگرام کی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے بھی اقدامات کر رہی ہے تاکہ اسے ایک مؤثر زرعی فلاحی ماڈل کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں اور زرعی شعبے کی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔

بریفنگ میں گرین ٹریکٹر پروگرام کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ بتایا گیا کہ پنجاب بھر میں تین مراحل کے دوران 34 ہزار گرین ٹریکٹرز تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ٹریکٹر حاصل کرنے والے 41 فیصد کاشتکار ایسے ہیں جنہیں اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ ٹریکٹر ملا، جبکہ 20 فیصد کسانوں نے ٹریکٹر کے ساتھ جدید زرعی آلات بھی خریدے ہیں۔

مزید بتایا گیا کہ گرین ٹریکٹر حاصل کرنے والے 32 فیصد کاشتکار دیگر کسانوں کو سروس پرووائیڈر کے طور پر زرعی خدمات فراہم کر رہے ہیں، جس سے دیہی معیشت اور زرعی سرگرمیوں میں مزید بہتری آنے کی توقع ہے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین سال کے دوران 50 ہزار ٹریکٹرز کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی حکومت نے اتنی بڑی تعداد میں کسانوں کو ٹریکٹرز فراہم نہیں کیے۔ ان کے مطابق ٹریکٹرز کی تقسیم کے پورے نظام کو شفاف بنانے کے لیے انسانی مداخلت مکمل طور پر ختم کر کے اسے کمپیوٹرائزڈ کر دیا گیا ہے تاکہ تمام مستحق کسان میرٹ کی بنیاد پر اس سہولت سے مستفید ہو سکیں۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.