Gas Leakage Web ad 1

پاکستان میں جہاز توڑنے کی صنعت کے فروغ کیلیے نئی قانون سازی منظور

0

پاکستان نے جہاز توڑنے کی صنعت کو فروغ دینے اور بین الاقوامی ماحولیاتی معیارات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے نئی بحری قانون سازی منظور کر لی ہے۔

Gas Leakage Web ad 2

سینیٹ نے ’’انوائرمنٹلی ساونڈ مینجمنٹ آف انوینٹری آف ہیزرڈس میٹریل آن شپس بل 2026‘‘ کی منظوری دے دی، جس کے بعد ملک میں ہانگ کانگ کنونشن کے نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔

آئی ایس پی آر کے زیراہتمام خصوصی نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ کا انعقاد

وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ نئی قانون سازی کے تحت جہازوں میں موجود خطرناک مواد کی نگرانی، محفوظ شپ بریکنگ اور ماحول دوست اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا۔ قانون کے مطابق پاکستان آنے والے ہر جہاز کا معائنہ، سروے اور سرٹیفکیشن لازمی ہوگا، جبکہ خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو ضبط کرنے، تحویل میں لینے یا پاکستانی پانیوں سے نکالنے جیسے اقدامات کیے جا سکیں گے۔

وفاقی وزیر کے مطابق روس یوکرین جنگ کے بعد تقریباً 400 جہاز پاکستانی شپ یارڈز منتقل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، جبکہ حالیہ امریکا، اسرائیل اور ایران کشیدگی کے باعث مزید جہازوں کے پاکستان آنے کی توقع بھی ہے۔ حکومت کراچی شپ یارڈ اور پاکستان اسٹیل ملز کو ملانے کے لیے ’’اسٹیل کاریڈور‘‘ قائم کرنے پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ شپ بریکنگ سے حاصل ہونے والا لوہا پاکستان اسٹیل ملز میں استعمال کیا جا سکے اور اسے دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان دنیا کے تین بڑے شپ ری سائیکلنگ ممالک میں شامل ہے، جہاں عالمی سطح پر تقریباً ایک تہائی شپ ری سائیکلنگ سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ قومی معیشت اور روزگار کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اسے بین الاقوامی ماحولیاتی، لیبر اور حفاظتی معیار کے مطابق بنانا ضروری ہے۔

پاکستان ہانگ کانگ کنونشن میں شمولیت اختیار کرنے والا 23 واں ملک بن گیا ہے، جبکہ بلوچستان اسمبلی پہلے ہی ’’بلوچستان سیف اینڈ انوائرمنٹلی ساؤنڈ ری سائیکلنگ آف شپس ایکٹ 2025‘‘ منظور کر چکی ہے۔

وزیر بحری امور نے کہا کہ نئی قانون سازی سے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوگی، ماحول دوست صنعتی ترقی کو فروغ ملے گا اور ملک کو سرکلر اکانومی کی طرف منتقل ہونے میں مدد ملے گی۔

sui northern 2
Leave A Reply

Your email address will not be published.